PoetryB Goshagoshi
se
شاعر: sehar alvi

B Goshagoshi ID: 0786

Verified Original Poetry

دل کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹے ہوئے ہم

دل کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹے ہوئے ہم اب کسی اور کے سانچے میں کہاں ڈھلتے ہیں؟ ہم نے اپنوں کی تحقیر کے خزانے بہت جھیلے آئینے میں بھی اب اپنے سے حیا کرتے ہیں! بے رخی اتنی سہی ہم نے محبت میں یہاں اب تو ہم پیار کے لفظوں سے بھی بہت ڈرتے ہیں مجھے لگتا تھا کہ وہ بدل دیں گے مقدر میرا آج وہ بدل کر راستے، چپ چاپ نکلتے ہیں اب مے خانے کی شراب کا کیا شکوہ کرنا ہم تو زمانے کی تلخیوں کا زہر پیتے ہیں ختم ہوا یہ تماشہ، اب آئینے کو توڑ دو سحرؔ ٹوٹے ہوئے دل، بھلا شیشوں میں کب سنورتے ہیں؟