se
شاعر: sehar alvi
B Goshagoshi ID: 0786
Verified Original Poetry
تمنائے ستم
نہ وہ الفت، نہ وہ مہر و وفا چاہیے اب
مجھے بس اس کی نفرت کی ادا چاہیے اب
وہ سمجھا ہے کہ میں اب بھی طلبگار ہوں اس کی
اسے کہہ دو، بس مجھے تیرِ جفا چاہیے اب
دلِ چلھنی پہ برسائے وہ تیروں کی بارش
مجھے ہر سانس میں زخمِ ستم چاہیے اب
محبت کی تمنا کا جنازہ اٹھ چکا ہے
تیرے غصے کا، ستم کا ہی کرم چاہیے اب
چلی جائے یہ جاں، پر تیری نفرت نہ کم ہو
سحر کو بس یہی درد و الم چاہیے اب