se
شاعر: sehar alvi
B Goshagoshi ID: 0786
Verified Original Poetry
ھے یہ عاجزی میری، تم اوقات مت سمجھو
مجھے تم عام ہی رکھو، مجھے تم خاص نہ سمجھو
ملا دو خاک میں بے شک، چلو پھر خاک تو سمجھو
میں ہنس کر ٹال دیتی ہوں تمہاری ہر ملامت کو
تمہارا ظرف ہے جتنا، میرا احساس تو سمجھو
بچا رکھا ہے میں نے اب بھی اس رتبے کو محفل میں
جو تم کو دے چکی ہوں میں، اسے اک تاج تو سمجھو
محبت نہ سہی ، میری انا کا پاس ہے شاید
گری نا خود کی نظروں میں ، تم یہ بات تو سمجھو
بہت گہرے تعلق نے ہمیشہ زخم دے ڈالے
رکھو دوری، مگر پامالِ رسمِ ذات تو سمجھو
ادھوری حسرتوں کا ڈھیر ہوں میں ایک کونے میں
نہ سمجھو عشق تم، گزری ہوئی ملوکات تو سمجھو
جھکی جو ہوں حیا سے، تم مری اوقات مت سمجھو
سحر یہ عاجزی ہے، خود کو تم میرا خدا نہ سمجھو