se
شاعر: sehar alvi
B Goshagoshi ID: 0786
Verified Original Poetry
Musafir_E_ la pata
مسافرِ بے پتہ:
تیرے ذکر کی دعا رہے، تجھے سوچ لوں میں کبھی کبھی
تری بزم میں جو کبھی مرا، کوئی دردِ دل کا بیاں رہے
کسی بات میں، کسی شعر میں، تیرے لب پہ میرا نشاں رہے
ملے مجھ کو جینے کی اک وجہ ، تیرے نام کا وہ اثر رہے
میں مسافرِ بے پتہ سا ہوں، جو تیرے خیال میں کھو گیا
نہ ٹھکانہ ہے نہ کوئی آس ہے، بس تیری گلی کا سفر رہے
چلے تھے تیری گلی سمت، وہیں تھک کے ہم تو ٹھہر گئے
نہ زمین کے نہ فلک کے ہیں ، نہ ادھر رہے نہ ادھر رہے
جیے تو بس تیرے واسطے ، کہیں اور نہ جھکا یہ سر
جو کٹی ہے عمر تیرے بغیر ، وہ کٹی ہے نام پہ ہی ترے
یہ مگر میں جانتا ہوں یہاں، تری دوستی کی کتاب میں
میرے نام کا کوئی باب ہی، نہیں لکھا تیرے حساب میں
سو یہ حسرتیں یہ خیال بھی ، کئے قسمتوں کے حوالے سب
جو لکھا ہے وہی تو ہو گا مگر، تیرے ذکر میں ہی سحرؔ رہے