PoetryB Goshagoshi
se
شاعر: sehar alvi

B Goshagoshi ID: 0786

Verified Original Poetry

Snabar_E_Mohbat

غزل: "سنابارِ محبت" جب سَنَابَار کی فطرت ہی زہر ٹھہری ہے، پھر کسی حسن سے امیدِ وفا کیوں رکھیں؟ جانتے ہیں انجامِ عشق بُرا ہی ہوتا ہے، پھر بھی دیوانے اپنا خسارہ کیوں رکھیں؟ شہزادیاں بھی مر گئیں سَنَابَار پتھر چاٹ کر، دیوانے زہر محبت میں تلاش زندگی کیوں رکھیں؟ محبت میں سکون ڈھونڈنا بھی عجب سودا ہے، زخم کھایا خوشی سے، دوا کی تلاش کیوں رکھیں؟ سحرؔ سچی محبت کا یہی دستور نرالا ہے، لُٹ کر بھی دل ہم اپنی وفا قائم کیوں رکھیں؟