se
شاعر: sehar alvi
B Goshagoshi ID: 0786
Verified Original Poetry
رضائے عشق
جو مِلنا ہی نہیں مُمکن، اسے پانے کی حسرت کیا
مگر جو دِل میں رہتا ہو، اسے کھونے کی جرات کیا؟
محبت موت ہے تو پھر، چلو یہ موت مرتے ہیں
جو قسمت میں نہیں لکھا، چلو اس پر ہی مرتے ہیں
تمہارا دُکھ عارضی تھا ، مگر اب میرا حصہ ہے
کہ تم کو مان کر اپنا، ہم اپنی ذات بھرتے ہیں
اسے معلوم ہے سب کچھ، مگر خاموش رہتا ہے
میں اپنی بے بسی کا اب، بھلا اعلان کیا کرتی؟
محبت موت ہی ٹھہری، اسے جینا ہی پڑتا ہے
غمِ الفت اگر جاں ہے، تو پھر جاں سے شکایت کیا
وہ جس کا نام لینے سے، مہک اٹھتا ہے ہر منظر
اسی کے نام کی تسبیح، ہر اک سانس پڑھتے ہیں
تمہارے ہجر کی وحشت، رگوں میں دوڑتی ہے اب
اسی اک قید کو جاں کر، اسی میں جی اٹھتے ہیں
عجب یہ فاصلہ ہے جس، کو مٹنا ہی نہیں 'سحر'
نہیں وہ پاس پھر بھی ہم، اسی کی یاد بھرتے ہیں