se
شاعر: sehar alvi
B Goshagoshi ID: 0786
Verified Original Poetry
حَسْرَتِ اِلتِفَات
وہ مِیری سِمت کَبھی مُلتَفِت ہُوا ہی نہیں
میں اِس کے بَعد کِسی سے خَفا ہُوا ہی نہیں
بِچھا دِیا ہے جُھکا کر سَرِ نِیاز وَہاں
جَہاں پَہ رائی بَرابَر جُھکا ہُوا ہی نہیں
لَگا کے بَیٹھ گَیا ہوں میں آس کی بازی
وہ کَھیل جِس کا کوئی فَیصلہ ہُوا ہی نہیں
ہَمارے خُونِ جِگر سے جَلی ہے شَمعِ وَفا
مَگر وہ اَندھیرا ہے جو کَم ذَرا ہُوا ہی نہیں
کَرَم کے نام پَہ یہ کَیسی بے رُخی ہے تِری
کہ دَرد بَڑھتا گَیا، اَب بَھلا ہُوا ہی نہیں
نَہ آئی اُس کو مُرَوَّت، نَہ آئی مِیری یاد
میں خُود کو بُھول گَیا، وہ جُدا ہُوا ہی نہیں
تَمام رات تَڑَپتے ہی کَٹ گئی سَحَرؔ
وہ مِہرِ صُبحِ تَمَنّا، عَودا ہُوا ہی نہیں