se
شاعر: sehar alvi
B Goshagoshi ID: 0786
Verified Original Poetry
دَرْدِ مُسَلْسَل"
حاصِل کی تَمَنّا ہے، نہ پانے کا ہے سَودا
اِک دَرْدِ مُسَلْسَل ہے جو مَیں نے ہے سَمَیٹا
وہ چاہے تلخ لہجے سے کرے لاکھ مِٹانا
وَفا کی تَپِش کو مَگر مَیں نے ہے سَمَیٹا
ہو جائے مُیَسَّر تو وہ مَنزِل ہی کہاں ہے؟
اِس ہِجْر کی لَذَّت کو ہی مَیں نے ہے سَمَیٹا
مَنْسُوب ہیں اُسی سے مِری زِیست کی راہیں
اِس سَنْگِ مَلَامَت کو ہی مَیں نے ہے سَمَیٹا
وہ لاکھ رَقِیبوں کی بانہوں میں رہے خوش
اِس ایک طَرفہ چاہ کو ھے سحر نے سَمَیٹا