se
شاعر: sehar alvi
B Goshagoshi ID: 0786
Verified Original Poetry
کیا بنا لالچ کسی انسان سے محبت عبادت ھے
یہ جو اللہ سے محبت کرنے کے دعوے دار ہیں، ذرا آج جواب دیں کہ کیا واقعی انہوں نے اللہ سے محبت کی؟
محبت تو بے غرض ہوتی ہے، بنا کسی لالچ کے۔ کیا جب تم لوگ نماز پڑھتے ہو تو کوئی لالچ نہیں ہوتا؟ کیا جب حج و عمرہ کرتے ہو تو کوئی غرض نہیں ہوتی؟ یہ جو فطرانہ، زکوٰۃ اور روزہ ادا کرتے ہو، کیا اس وقت کوئی دنیاوی یا اخروی فائدہ پیشِ نظر نہیں ہوتا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ جب تم کعبہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہو، تب بھی گناہوں کی معافی اور مشکلات سے نجات کا لالچ ساتھ ہوتا ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری اتنی اوقات ہی نہیں کہ ہم اللہ سے محبت کر سکیں۔ ہم تو اس نہایت مہربان رب کی محبت کی قدر بھی نہیں کر پاتے اور دعوے بلند بانگ کرتے ہیں۔ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اگر زمین و آسمان کے تمام انسان اور جن مل کر بھی میری عبادت کریں، تو اس سے میری بادشاہت میں ایک مچھر کے پر برابر بھی اضافہ نہیں ہوتا۔"
جب ہماری عبادات سے اس غنی رب کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا، تو پھر ہمارے یہ دعوے کیسے؟
تو اصل عبادت تو انسان سے محبت کرنا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بیوہ اور مسکین کی کفالت اور ان کی ضروریات کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہے، یا اس شخص کی طرح ہے جو رات بھر عبادت کرتا اور دن کو روزہ رکھتا ہے۔" (صحیح مسلم)
ہم نماز روزے کے سجدوں میں تو محبت ڈھونڈتے ہیں، لیکن کسی بے سہارا کا سہارا بننے کو عبادت نہیں سمجھتے۔ ہم تو اللہ کی مخلوق میں سے کسی ایک انسان سے محبت کا حق نبھانے بیٹھیں تو تھک جاتے ہیں، پھر اللہ سے محبت کے دعوے کیسے؟
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دل کی سختی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اگر تم اپنے دل کو نرم کرنا چاہتے ہو، تو مسکین کو کھانا کھلاؤ اور یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرو۔" (مسند احمد)
جب ہم یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے اور اس کا دکھ بانٹنے کا حوصلہ ہی نہیں رکھتے، تو ہماری محبت کے دعوے کھوکھلے ہیں۔
مگر ہم تو شیطانی شخصیت پرستی میں مبتلا ہیں۔ انسانوں کے ڈسے ہوئے کسی دکھی انسان کو سہارا دینے کی بجائے ہم اپنی عیاشیوں میں مگن رہتے ہیں، اور احادیث بھی وہی چن کر حوالے لاتے ہیں جن میں ہمارا اپنا سکھ اور فائدہ چھپا ہو۔ اگر ہمارا یہ حال ہے، تو پھر اللہ سے محبت کے دعوے کیسے؟
جس طرح ہم اپنے اللہ کی بے