se
شاعر: sehar alvi
B Goshagoshi ID: 0786
Verified Original Poetry
پینا اسے نہیں کہتے جو پیتے مے خانے میں سحرؔ
پینا اسے نہیں کہتے جو پیتے مے خانے میں سحرؔ
پینا تو یار کے غموں کو ہے، جس میں گناہ نہیں!
مسجد ہو، بیاباں ہو یا جنت، ہمیں جگہ سے کیا؟
ہم تو دکھوں کو پیتے ہیں، اس پر سزا نہیں!
وہ ہر جگہ موجود ہے تو پھر جگہ کی بحث ہی کیوں؟
ہم دردِ دل پیتے ہیں وہاں، جہاں کوئی دیکھتا نہیں!
پوچھا گیا ہے، اہلِ مے کے سلسلے میں آنے کا سبب
ہم بھی تو زہرِ وقت پیتے ہیں، کیا یہ پینا نہیں؟
زاہد نہ کر ملامت ہمیں ہمارے اکھڑ مزاج پر
جو درد ہم نے جھیلا ہے، وہ تو نے جیا نہیں!
دنیا سمجھ رہی ہے ہمیں رند و خراب و بے عمل
اس دل کے ٹوٹنے کا مگر کسی کو پتا نہیں!
ختم ہوئی بحث یہاں، سمیٹ لو مے اور مصلّے سحرؔ
وہ دل میں دھڑکتا ہے، جو کہیں ملتا نہیں!