PoetryB Goshagoshi
se
شاعر: sehar alvi

B Goshagoshi ID: 0786

Verified Original Poetry

عمر بھر ہم یہی بھول کرتے رہے

عمر بھر ہم یہی بھول کرتے رہے دھول چہرے پر تھی اور آئینہ صاف کرتے رہے وہ بدلتے رہے اپنے چہرے مگر ہم زباں کے بھروسے پہ اعتبار کرتے رہے جن کے دامن میں کانٹے ہی کانٹے رہے ان کی راہوں میں ہم پھول نچھاور کرتے رہے دل کے ارمان لٹتے رہے سامنے اور ہم بے بسی میں بس آہیں بھرتے رہے ہم نے مانگی تھی جن سے وفا کی دعا وہ زمانے میں ہم کو ہی بدنام کرتے رہے راستے موڑ کر وہ تو آگے بڑھے ہم وہیں بیٹھ کر بس انتظار کرتے رہے جن کی خاطر لٹائی تھی سچی خوشی سحر وہ حسابِ غمِ دل وصول کرتے رہے