PoetryB Goshagoshi
se
شاعر: sehar alvi

B Goshagoshi ID: 0786

Verified Original Poetry

عشق بھی کر لیا اور سکون بھی چاہتے ہو

عشق بھی کر لیا اور سکون بھی چاہتے ہو یعنی زہر بھی پی لیا اور جینا بھی چاہتے ہو دل لگا کر کسی سے اب روتے ہو رات بھر خود ہی لائے ہو طوفاں اور سفینہ بھی چاہتے ہو دردِ دل بھی چاہیئے اور رسوائی کا ڈر بھی ہے آگ بھی چھپاتے ہو اور دھواں بھی چاہتے ہو تیری محفل میں اب کوئی پرسانِ حال نہیں شہرِ خاموشاں میں تم اب جینا بھی چاہتے ہو غم کی اس تیرگی میں اک اُمیدِ نو ہو تم بڑی ناداں ہو سحر، رات میں دن بھی چاہتے ہو