se
شاعر: sehar alvi
B Goshagoshi ID: 0786
Verified Original Poetry
جس طرح رات گئی دن بھی گیا ہاتھوں سے
جس طرح رات گئی دن بھی گیا ہاتھوں سے
اس طرح کسی شام ہم نے بھی گزر جانا ہے
جس نے روکا ہی نہیں ہم کو کبھی جانے سے
اس کی بستی میں بھلا ہم نے کہاں رہنا ہے
وقت کی تیز ہواؤں کا یہ جھونکا ہے میاں
نقشِ پا بن کے ہمیں خاک میں مل جانا ہے
لوگ کہتے ہیں کہ اک روز بدل جائے گا وقت
ہم نے تو وقت کے سانچے میں ہی ڈھل جانا ہے
شمعِ محفل کی طرح جلتے رہے ہم تو سدا
صبح ہوتے ہی مگر ہم نے بھی بجھ جانا ہے
آج روتے ہیں جو کل ہنس کے اڑاتے تھے ہمیں
ان کی آنکھوں کو بھی اک روز تو نم ہونا ہے
روشنی بن کے چمکنا ہے اندھیروں میں ہمیں
اے سحر! موت کے سائے سے کہاں ڈرنا ہے