se
شاعر: sehar alvi
B Goshagoshi ID: 0786
Verified Original Poetry
سَحَرِ گواہی
میری الفت کو فقط وہ ایک ضد سمجھتا ہے
میری ہر اک بات کو وہ حرفِ رد سمجھتا ہے
میں نے اپنا آپ بھلایا ہے جس کی خاطر
وہ مری اس کیفیت کو جزر و مد سمجھتا ہے
میں نے ہنس کر وار دیں جس پر تمام آسائشیں
وہ مرے اس صدق کو بھی مکر و کد سمجھتا ہے
اس کو کیا معلوم میں نے خود کو کتنا کھو دیا
میرے دکھ کو وہ فقط گنتی کا عدد سمجھتا ہے
اپنے دل کو میں نے پرکھا ہے ضمیرِ پاک میں سحر
پروا نہیں عشقِ صادق کو ! اب کون بد سمجھتا ہے