se
شاعر: sehar alvi
B Goshagoshi ID: 0786
Verified Original Poetry
اُمیدِ مصلوب
بھروسہ حد سے بڑھ کر یار پر کر کے دیکھ لیا
لگا کر داؤ پر اپنا ہی دل، مَر کے دیکھ لیا
اُمیدِ بوسہِ رُخسار پر کھایا ہے جی طمانچہ
ملامت کا، ملامت سے ہی مُنہ بھر کے دیکھ لیا
تکبُّر کی جھڑک پر بھی جُھکے پائے تعظیم پر
ذلیل و خوار ہو کر، خاک پر گِر کے دیکھ لیا
پہنایا ہار لعنت کا، کِیا مصلوب الفت کو
جنازہ عشق کا کاندھے پہ دھر کے دیکھ لیا
اُٹھا کر لاشِ الفت اب الگ اِک سمت جاتے ہیں
بچے کُھچے جو ارماں تھے، انہیں آج مرتے دیکھ لیا
گلا کاٹا ہے جس بے درد شمشیر نے میرا
اِسی شمشیر سے اُمیدِ زندگی رکھ کے دیکھ لیا
کیا یاد آئے گا اُس کو، کٹا مصلوب یہ گردن؟
یہ صدمہ جھیل کر، اب آہ بھر کے دیکھ لیا
مِلا کچھ بھی نہیں سحرؔ محبت کے عوض لیکن
خسارہ عشق میں خود کا سراسر کر کے دیکھ لیا
