se
شاعر: sehar alvi
B Goshagoshi ID: 0786
Verified Original Poetry
نہ چاہتے ہوئے بھی جینا آسان تھوڑی ہے
نہ چاہتے ہوئے بھی جینا آسان تھوڑی ہے
ہنستے ہوئے غم کو چھپانا آسان تھوڑی ہے
ہم جس کو وفا دیں، اسی سے ملیں جفا کے تحفے
یہ دردِ دل دنیا سے چھپانا آسان تھوڑی ہے
کہنے کو تو کہہ دیتی ہے یہ دنیا پل بھر میں
گزرے ہوئے لمحوں کو بھلانا آسان تھوڑی ہے
مانا کہ بدل جاتے ہیں لوگ موسموں کی طرح
پر اپنوں کو بدلتے سہہ پانا آسان تھوڑی ہے
ہر ایک شخص کو دل میں جگہ دینا سستی پڑی ہمیں
اب دل سے کسی کا نقش مٹانا آسان تھوڑی ہے
طوفاں کے تھپیڑوں سے تو لڑ جاتی ہے کشتی
ساحل پہ آ کر ڈوب جانا آسان تھوڑی ہے
محفل میں سبھی لوگ سلامت نظر آتے ہیں
تنہائی کا ہر ایک زخم دکھانا آسان تھوڑی ہے
دیکھے تھے جو خواب ہم نے کھلی آنکھوں سے کبھی
ان خوابوں کی کرچیاں اٹھانا آسان تھوڑی ہے
کانٹوں سے بھری راہ پہ چلنا تو مقدر تھا
پیروں کے آبلوں کو چھپانا آسان تھوڑی ہے
بکھرے ہوئے پتوں کی طرح اڑ گئے سبھی دوست
اجڑے ہوئے چمن کو بسانا آسان تھوڑی ہے
امید کے دئیے تو جلا رکھے ہیں ہم نے بھی
طوفانِ حوادث میں انہیں بچانا آسان تھوڑی ہے
ہنس کر جو ملا، ہم نے اسے اپنا سمجھ لیا
انسان کے چہروں کو پڑھ پانا آسان تھوڑی ہے
شیشے کے مکانوں میں جو رہتے ہیں یہاں پر
پتھر وہ دوسروں پہ چلانا آسان تھوڑی ہے
لکھتے ہیں جو کاغذ پہ دلِ زار کے قصے
اشکوں سے قلم کو ڈوبانا آسان تھوڑی ہے
ہوتی ہے بہت سخت محبت کی یہ منزل
دیوانے کو ہوش میں لانا آسان تھوڑی ہے
بکتے ہیں یہاں لوگ سرِ عام وفائے دل
بازارِ تمنا میں دل لگانا آسان تھوڑی ہے
رو رو کے کٹی رات، تو کٹ ہی گئی لیکن
تاریک فضاؤں میں مسکرانا آسان تھوڑی ہے
منزل کی تمنا نے بہت دور کیا گھر سے
اب لوٹ کے واپس گھر آنا آسان تھوڑی ہے
دنیا نے سکھائے ہیں ہمیں کتنے ہی پند و نصائح
اپنے ہی اصولوں کو گنوانا آسان تھوڑی ہے
ہر شخص یہاں خود کو فرشتہ ہی سمجھتا ہے
انصاف کا ترازو اٹھانا آسان تھوڑی ہے
کچھ زخم تو ایسے ہیں جو بھرتے ہی نہیں ہیں
ان گہرے نشانوں کو مٹانا آسان تھوڑی ہے
کہنے کو تو یہ زیست اک مہمان سرا ہے
مہمان کا سدا کے لیے رک جانا آسان تھوڑی ہے
شکوہ نہ کیا ہم نے کبھی اپنی قضا کا
تقدیر کے لکھے کو مٹانا آسان تھوڑی ہے
جو مری محبتوں کا تھا امیں، وہی بنا ہے دشمن
یہ عجیب کھیل دل کو سمجھانا آسان تھوڑی ہے
تھا جو محرمِ تمنا، وہی صف آراء ہوا ہے
یہ چھرا اپنوں سے ہی کھانا آسان تھوڑی ہے
ہمت نے سکھایا ہے ہمیں جینے کا سلیقہ
مایوسی کے سائے میں سمانا آسان تھوڑی ہے
اندھیری رات کے سائے تو کاٹ لیے ہم نے سحر
اب صبحِ نو کا جشن منانا آسان تھوڑی ہے