PoetryB Goshagoshi
se
شاعر: sehar alvi

B Goshagoshi ID: 0786

Verified Original Poetry

محبوب کسے کہتے ہیں

جانتے ہو محبوب کسے کہتے ہیں؟ ✋ = جس سے محبت ہو غلط ❌ درست جواب = محب میں اللہ کی طرف سے پھونکی ہوئی محبت بھری روح کے دشمن کو محبوب کہتے ہیں محب کے قیمتی جزبات کے قاتل کو محبوب کہتے ہیں. مگر محبوب ایک لاڈلے بچے کی طرح ہوتا ہے جسے علم ہی نہیں ہوتا کہہ وہ کیا ھے ایک ماں کیلئے بچہ جتنے بھی نخرے کرے ماں چھوڑ نہیں سکتی پہلے ماں بچے کو پیار کرتی ھے اسے پیار کرنا اچھا لگ رہا ہوتا ہے مگر پھر وہ اسے پالتی ہے کہ یہ میرا سہارا بنے گا اور جب وہ سہارا نہیں بنتا تو بھی اسے اس کی تکلیف پہ کام آنے کی کوشش کرتی ہے وہ اسے بنا کسی مفاد کے محبت کرتی ہے کیونکہ اللہ نے اس کی روح میں محبت بھری ہوتی ہے ماں خود اپنی مرضی سے بچے کو پیار نہیں کرتی سیم اسی طرح ایک محب جو واقعی سچا ہو تو وہ اپنی مرضی سے محبت نہیں کرتا اس کے اندر جزبات اللہ نے بھرے ہوتے ہیں اور جو محبوب اس کے اندر سے وہ جزبات ختم کرنے پہ بضد ہو وہ اللہ سے لڑا، خیر محبت کے مقام ہوتے ہیں پسندیدگی = جس میں ہمیں کوئی انسان پیارا لگنے لگتا ہے کیونکہ اس میں وہ ہوتا ہے جس کی کبھی ہمیں کسک رہی ہو. پاکیزگی = محبت میں اللہ کے قریب ہونا تہجد میں راتوں کو تنہائی میں اس کی باتیں کرنا جو محبوب نہیں سنتا وہ اللہ کو بتانا اور پھر اسے مانگنا جو پانے کیلئے اللہ کے در سے جوڑ سے وہ ہی محبت ھے اور محبت پاک جزبات ہوتے ہیں جو اللہ نے ہمیں محبوب پہ نچھاور کرنے کیلئے دئیے ہوتے ہیں. (اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ محبت بس اللہ سے کرو تو محبوب سے محبت اور اللہ سے محبت الگ چیز ھے کیونکہ ہم محبوب مانگنے اللہ کے در پہ جھکتے ہیں اگر محبوب مل جائے تو بھی اللہ سے محبت فرض ھے ہر انسان کرتا ہے اور نا ملے تو بھی اللہ سے محبت فرض ہے ہم اللہ کو محبت کر ہی نہیں سکتے بلکہ اس کی ہمیں محبت کرنے پہ یقین رکھنا ہی ایمان کا حصہ ہے جسے یہ احساس ہو گیا وہی اللہ کے سامنے گڑگڑاتا ھے کیونکہ ماں سے لیکر بچے تک کی رشتوں کی سوغات اللہ ہی دیتا ہے) جنون = اسے پیار دینا اور اس کی عزت خود تو کرنا ہی مگر ہر اس سے بھی کروانا جو آپ سے دعا سلام بھی رکھنا چاہ رہا ہو جو اسے عزت دے وہی آپکو بھائے آپ کے دل کے تالے کی کنجی اس کی عزت کروانا ہی ہو، ضد= انکار پہ بھی سر جھکائے رکھنا اور وہ ہر حال میں حاصل کرنا ھے چاہے جو ہو جائے عشق= اس کی خاطر تڑپنا اچھا لگنے لگے اور دکھ ملنے پہ بھی