PoetryB Goshagoshi
se
شاعر: sehar alvi

B Goshagoshi ID: 0786

Verified Original Poetry

حرفِ غریب

امیرِ شہر کا ہر عیب بھی یہاں معیار لگا غریبِ شہر کا اخلاص بھی ہمیشہ مکار لگا زر دار کی عیاری بھی حکمت میں ڈھلی ہے مفلس کی محبت تو فقط ایک مزاق لگا وہ اگر مکر بھی لائیں تو سیاست ٹھہری ہم نے گر سچ بھی کہا، اپنا بولنا فریب دار لگا قدر کی ہم نے اگر، نام دیا چاپلوسی کا ان کا ہر ایک دکھاوا ہی ہمیں سچا پیار لگا ان کی مطلب کی یہ یاری تو بنی ایک کلاس اپنا ہاتھ ان کو ہمیشہ ہی تو خوار لگا ان کی لکھی ہوئی دو لائنیں فلسفہ بنیں اپنا ہر دردِ جگر بھی ان کو تو بیکار لگا کاش سمجھے یہ سحر! قدر و قیمتِ انسان جس کے پاس آئی ہے دولت، وہی خود دار لگا