se
شاعر: sehar alvi
B Goshagoshi ID: 0786
Verified Original Poetry
تجھے پتھر کہوں یہ گورا نہیں
تجھے پتھر کہوں یہ گورا نہیں
ورنہ تجھ میں بھلا دل کہاں ہے بتا
دل والے کسی کو ستاتے نہیں
چاہیے جتنے بھی ہوں زندگی میں عذاب
مر تو جائیں
مر تو جائیں
کسی کو رلاتے نہیں
تو ھے بے وفا یہ حقیقت سہی
ہم سبھی کو یہ راز بتاتے نہیں
تجھے پتھر کہوں یہ گورا نہیں
ورنہ تجھ میں بھلا دل کہاں ہے بتا
ہم نے دی ھے محبت تجھے بے شماااااار...
کیا تجھ میں سنبھالنے کی طاقت نہیں
محبت اس قدر ھے تجھ سے مجھے میرے صنم..
تیری ہر بے رخی دل تک بھی لیجاتے نہیں
تو ھے بے وفا یہ حقیقت سہی
ہم خود کو بھی یہ راز بتاتے نہیں
تجھے پتھر کہوں یہ گورا نہیں
ورنہ تجھ میں بھلا دل کہاں ہے بتا
محبت بہت پاک ہوتی ھے، بہت نایاب ہوتی ہے
کہاں یہ ہر اک کو میسر عام ہوتی ہے
دل ھے میرا رب کے ہاتھوں میں ورنہ
میں کروں محبت میری اتنی حیثیت نہیں
یہ میری محبت ھے نعمت خدا کی
معلوم ھے تجکو پھر بھی کیوں قدر نہیں؟
تجھے پتھر کہوں یہ گورا نہیں
ورنہ تجھ میں بھلا دل کہاں ہے بتا ؟
موم ہو جاتا پتھر بھی سن کر فغاں
تیرے دل میں مگر کوئی رقت نہیں
تونے تحفے جو بخشے وہ کافی ہیں مجھکو
تجھ سے پانے کی اب اور حسرت نہیں
سپردِ خدا کیا ہے دل سحر نے
تیرے دَر سے ستمگر، اب کوئی حسرت نہیں
تو ھے بے وفا یہ حقیقت سہی
ہم سبھی کو یہ راز بتاتے نہیں
تجھے پتھر کہوں یہ گورا نہیں
ورنہ تجھ میں بھلا دل کہاں ہے بتا