PoetryB Goshagoshi
se
شاعر: sehar alvi

B Goshagoshi ID: 0786

Verified Original Poetry

مُونِسِ جَفا

ہُوں مَیں پہلے ہی ٹھُکرائی ہوئی اِس جَہان کی تیری ٹھُکراتی دادگَری نے دِیا بارہا یہ خَیال کھولنا چاہا ہے جَب بھی اپنے دِل کا مَیں نے حال تُو نے کَر ڈالا ہے پَل بھَر میں مجھے کتنا مَلال بَدَل کے رَکھ دِیا اپنی سوچ کے سانچے میں یوں کِیا میری ہی فِطرَت کو تُو نے خود میں ہی مُحال مَیں اَب نہ اپنی رہی اور نہ ہی تیرے جیسی ہوں بَتا دے اَب کہاں جاؤں میں لے کَر یہ اپنا حال؟ اک ذَرا سی بھی تَوَجُّہ تُو نے دی مُجھ کو نہیں ہو گئی ہے رائِیگاں میری مُحَبَّت کی ساری مِثال سَنگ دِل بَن کَر سُنا تُو نے مُرا ہمیشہ سارا بیاں خاک میں تُو نے مِلایا ہے مُرا ہمیشہ سارا کَمال مانا کہ خُوبِیوں کا ہے مالِک تُو خُوش خِصال مُجھ میں خامیاں ہیں، میں ہُوں اک سَوال گر مری ہی عَقِیدَت نہ ہو تُو کچھ بھی نہیں بکھر کے رہ جائے گا پل میں تیرا یہ سارا جَلال بنا مُحِب کے بھلا کب کوئی مَحْبُوب ہوا؟ بغیر میرے، ادھورا ہے تیرا یہ سارا کمال جو مَیں ہی نہ رہوں تو تجھے مَحْبُوب کون کہے؟ بنا میرے ، بھلا کیسے بنتا تیرا یہ سارا جَمال؟ تُجھے مَحْبُوبِ دِل مَیں نے بنایا ہے اے مُونِسِ جَفا بِنا سَحَر کے، بھَلا کیسے بَنتا تیرا یہ حُسن و جَمال؟