se
شاعر: sehar alvi
B Goshagoshi ID: 0786
Verified Original Poetry
مسافتیں لمبی تھیں یا سفر نے تھکا دیا
مسافتیں لمبی تھیں یا سفر نے تھکا دیا
تجھے کیا بتاؤں میرے ہمنشیں کس غم نے مجھے رلا دیا
جو کبھی غرورِ حیات تھا، وہ جو دُعاؤں کا شمار تھا
اُسی بے وفا کے ملال نے مری زندگی کو مٹا دیا
جو جلا کے بیٹھے تھے داغِ دل، وہی تیرگی کا سبب بنا
جو روشنئے سفیر تھا، اِسی واہمے نے دغا دیا
ہمیں جس کی چھاؤں عزیز تھی، وہی پیڑ دشتِ بلا ہوا
ہمیں اِسی عجز و نیاز نے، اِسی راستے میں گرا دیا
یہ جو تیرگی کا عذاب ہے، یہ کٹے گا کس کے یقین پر
جسے چاند بن کے چمکنا تھا، اُسی سحرؔ نے ہے رلا دیا