se
شاعر: sehar alvi
B Goshagoshi ID: 0786
Verified Original Poetry
برہنہ زخم
یہ آنسو جو چھلکتے ہیں، انہیں تم درد مت سمجھو
یہ کچھ باتیں پرانی ہیں، انہیں تم گرد مت سمجھو
جو خنجر دل پہ کھائے ہیں، وہی اب بول پڑتے ہیں
جلن سوچوں کے نمک کی ہے، اسے تم سرد مت سمجھو
جو زخمِ یار ہوتے ہیں، وہ دشمن کی مٹھاسوں سے
نمایاں ہو ہی جاتے ہیں، انہیں بے درد مت سمجھو
تلاشِ مرہمِ جاں میں، ہر اک سے حال مت کہنا
ہر اک لہجہ ہے بناوٹی، اسے ہمدرد مت سمجھو
ضمیروں کے جو گھاؤ ہیں، وہ مٹتے ہی نہیں سحر
یہ پیلے پڑ گئے چہرے، انہیں بس زرد مت سمجھو