اصل غزلیں
سُنیا سی کروڑ دا
ایویں نہیں سی بزرگاں نے دتی اے دنائی،
جیہڑا سچا رستہ سی، اوہو ہی دکھلائی دا۔
سُنیا سی کروڑ دا، دیکھیا تے لکھ دا،
راہ پیا تے سو دا، واہ پیا تے ککھ دا۔
ظاہر دی چمک اتے ایویں نہ توں ڈولیں،
دوروں جیہڑا لشکے، اوہ نئیں سونا سکھ دا۔
پرکھے بغیر بندہ، بھرم نہیں رہندا،
اے دنیا دا میلہ اے بس اکو ہی پکھ دا۔
مطلب دے نے سجن تے مطلب دے نے ساؤ،
لوڑ پئے تے کوئی وی نال نئیں کھلو وے کھ دا۔
وکھت پئے تے سچے وی مکھڑے نے موڑدے،
ایتھے کوئی وی نئیں سجن سچے سکھ دا۔
پیسے دے ترازو وچ تولدے نے رشتے،
مل نئیں پیندا ایتھے کسے دے دکھ دا۔
دنیا دے مکر توں توں دل نوں بچا لے،
اے پینڈا اے پیارے بس اوکھے ہی دکھ دا۔
مٹی دے توں پتلے توں مان کیوں اے کردا،
انت نوں اے بندہ بس مٹی دے ککھ دا۔
پہچان جے توں کر لئیں سچے ہادی سجن دی،
رستہ بدل جائے گا تیرے ہر اک دکھ دا۔
بس نام رہے سچے دا سحرؔ، باقی سبھ اے فانی،
اے دنیا دا میلہ اے بس اکو ہی پکھ دا۔
نہ چاہتے ہوئے بھی جینا آسان تھوڑی ہے
نہ چاہتے ہوئے بھی جینا آسان تھوڑی ہے
ہنستے ہوئے غم کو چھپانا آسان تھوڑی ہے
ہم جس کو وفا دیں، اسی سے ملیں جفا کے تحفے
یہ دردِ دل دنیا سے چھپانا آسان تھوڑی ہے
کہنے کو تو کہہ دیتی ہے یہ دنیا پل بھر میں
گزرے ہوئے لمحوں کو بھلانا آسان تھوڑی ہے
مانا کہ بدل جاتے ہیں لوگ موسموں کی طرح
پر اپنوں کو بدلتے سہہ پانا آسان تھوڑی ہے
ہر ایک شخص کو دل میں جگہ دینا سستی پڑی ہمیں
اب دل سے کسی کا نقش مٹانا آسان تھوڑی ہے
طوفاں کے تھپیڑوں سے تو لڑ جاتی ہے کشتی
ساحل پہ آ کر ڈوب جانا آسان تھوڑی ہے
محفل میں سبھی لوگ سلامت نظر آتے ہیں
تنہائی کا ہر ایک زخم دکھانا آسان تھوڑی ہے
دیکھے تھے جو خواب ہم نے کھلی آنکھوں سے کبھی
ان خوابوں کی کرچیاں اٹھانا آسان تھوڑی ہے
کانٹوں سے بھری راہ پہ چلنا تو مقدر تھا
پیروں کے آبلوں کو چھپانا آسان تھوڑی ہے
بکھرے ہوئے پتوں کی طرح اڑ گئے سبھی دوست
اجڑے ہوئے چمن کو بسانا آسان تھوڑی ہے
امید کے دئیے تو جلا رکھے ہیں ہم نے بھی
طوفانِ حوادث میں انہیں بچانا آسان تھوڑی ہے
ہنس کر جو ملا، ہم نے اسے اپنا سمجھ لیا
انسان کے چہروں کو پڑھ پانا آسان تھوڑی ہے
شیشے کے مکانوں میں جو رہتے ہیں یہاں پر
پتھر وہ دوسروں پہ چلانا آسان تھوڑی ہے
لکھتے ہیں جو کاغذ پہ دلِ زار کے قصے
اشکوں سے قلم کو ڈوبانا آسان تھوڑی ہے
ہوتی ہے بہت سخت محبت کی یہ منزل
دیوانے کو ہوش میں لانا آسان تھوڑی ہے
بکتے ہیں یہاں لوگ سرِ عام وفائے دل
بازارِ تمنا میں دل لگانا آسان تھوڑی ہے
رو رو کے کٹی رات، تو کٹ ہی گئی لیکن
تاریک فضاؤں میں مسکرانا آسان تھوڑی ہے
منزل کی تمنا نے بہت دور کیا گھر سے
اب لوٹ کے واپس گھر آنا آسان تھوڑی ہے
دنیا نے سکھائے ہیں ہمیں کتنے ہی پند و نصائح
اپنے ہی اصولوں کو گنوانا آسان تھوڑی ہے
ہر شخص یہاں خود کو فرشتہ ہی سمجھتا ہے
انصاف کا ترازو اٹھانا آسان تھوڑی ہے
کچھ زخم تو ایسے ہیں جو بھرتے ہی نہیں ہیں
ان گہرے نشانوں کو مٹانا آسان تھوڑی ہے
کہنے کو تو یہ زیست اک مہمان سرا ہے
مہمان کا سدا کے لیے رک جانا آسان تھوڑی ہے
شکوہ نہ کیا ہم نے کبھی اپنی قضا کا
تقدیر کے لکھے کو مٹانا آسان تھوڑی ہے
جو مری محبتوں کا تھا امیں، وہی بنا ہے دشمن
یہ عجیب کھیل دل کو سمجھانا آسان تھوڑی ہے
تھا جو محرمِ تمنا، وہی صف آراء ہوا ہے
یہ چھرا اپنوں سے ہی کھانا آسان تھوڑی ہے
ہمت نے سکھایا ہے ہمیں جینے کا سلیقہ
مایوسی کے سائے میں سمانا آسان تھوڑی ہے
اندھیری رات کے سائے تو کاٹ لیے ہم نے سحر
اب صبحِ نو کا جشن منانا آسان تھوڑی ہے
محبت بچوں کا کھیل نہیں:
محبت یا تو ہوتی ہی نہیں یا پھر ہوتی ھے تو بس ہو جاتی ہے محبت کسی عمر سے بندھی ہوئی غلامی کا نام نہیں ہے، محبتوں میں محب کی انسانیت جس قدر زندہ ہو اسی قدر گہری کھائی ہوتی ہے جس میں محب گرتا جاتا ہے اور مزید گرنے کی تمنا رکھتا ہے.
نہ ہو تو نہ ہو ، گر ہو تو پھر کُن ہی ہو جائے
محبت وہ ساحر ہے، جو دل چُن ہی ہو جائے
سحر! کوئی جتنا بھی ڈوبے، وہ مٹنا ہی چاہے
یہ وہ گہری کھائی ہے، جو مدفن ہی ہو جائے!
وہ مِیری سِمت کَبھی مُلتَفِت ہُوا ہی نہیں
وہ مِیری سِمت کَبھی مُلتَفِت ہُوا ہی نہیں
میں اِس کے بَعد کِسی سے خَفا ہُوا ہی نہیں
بِچھا دِیا ہے جُھکا کر سَرِ نِیاز وَہاں
جَہاں پَہ رائی بَرابَر جُھکا ہُوا ہی نہیں
لَگا کے بَیٹھ گَیا ہوں بازی،جیت کی آس کی
وہاں سے کَھیل جو ابھی، شروع ہُوا ہی نہیں
ہَمارے خُونِ جِگر سے جَلی ہے شَمعِ وَفا
مَگر وہ اَندھیرا ہے جو کَم ذَرا ہُوا ہی نہیں
کَرَم کے نام پَہ یہ کَیسی بے رُخی ہے تِری
کہ دَرد بَڑھتا گَیا، اَب بَھلا ہُوا ہی نہیں
نَہ آئی اُس کو مُرَوَّت، نَہ آئی مِیری یاد
میں خُود کو بُھول گَیا، وہ جُدا ہُوا ہی نہیں
تَمام رات تَڑَپتے ہی کَٹ گئی سَحَرؔ
وہ مِہرِ صُبحِ تَمَنّا، عَودا ہُوا ہی نہیں
کوئی شکوہ نہیں دل کو کہ میرا مان توڑا ہے
کوئی شکوہ نہیں دل کو کہ میرا مان توڑا ہے
ہمیں بھی شوق تھا اک عمر، دھوکا کھا کے جینے کا
خیالِ مصلحت میں تم نے رشتہ ہی وہیں توڑا
جہاں سے حوصلہ بڑھتا تھا طوفانوں سے لڑنے کا
تیری دنیا کا ہر چہرہ مکرر دیکھ رکھا ہے
ہمارا دل ہی اب مائل نہیں دنیا میں رہنے کا
چلو تم جیت ہی جاؤ، تماشا ختم کرتے ہیں
یہ جھگڑا اب نہیں جھیلا ہی جاتا روز مرنے کا
ہمیں بھی تھا بہت اصرار خود کو ٹھیک رکھنے پر
مگر اب حوصلہ باقی نہیں خود کو سمٹنے کا
سحر اس انجمن میں اب کوئی رہبر نہیں ملتا
سبھی سامان رکھتے ہیں یہاں تو دل کو ٹھگنے کا
تجھے پتھر کہوں یہ گورا نہیں
تجھے پتھر کہوں یہ گورا نہیں
ورنہ تجھ میں بھلا دل کہاں ہے بتا
دل والے کسی کو ستاتے نہیں
چاہیے جتنے بھی ہوں زندگی میں عذاب
مر تو جائیں
مر تو جائیں
کسی کو رلاتے نہیں
تو ھے بے وفا یہ حقیقت سہی
ہم سبھی کو یہ راز بتاتے نہیں
تجھے پتھر کہوں یہ گورا نہیں
ورنہ تجھ میں بھلا دل کہاں ہے بتا
ہم نے دی ھے محبت تجھے بے شماااااار...
کیا تجھ میں سنبھالنے کی طاقت نہیں
محبت اس قدر ھے تجھ سے مجھے میرے صنم..
تیری ہر بے رخی دل تک بھی لیجاتے نہیں
تو ھے بے وفا یہ حقیقت سہی
ہم خود کو بھی یہ راز بتاتے نہیں
تجھے پتھر کہوں یہ گورا نہیں
ورنہ تجھ میں بھلا دل کہاں ہے بتا
محبت بہت پاک ہوتی ھے، بہت نایاب ہوتی ہے
کہاں یہ ہر اک کو میسر عام ہوتی ہے
دل ھے میرا رب کے ہاتھوں میں ورنہ
میں کروں محبت میری اتنی حیثیت نہیں
یہ میری محبت ھے نعمت خدا کی
معلوم ھے تجکو پھر بھی کیوں قدر نہیں؟
تجھے پتھر کہوں یہ گورا نہیں
ورنہ تجھ میں بھلا دل کہاں ہے بتا ؟
موم ہو جاتا پتھر بھی سن کر فغاں
تیرے دل میں مگر کوئی رقت نہیں
تونے تحفے جو بخشے وہ کافی ہیں مجھکو
تجھ سے پانے کی اب اور حسرت نہیں
سپردِ خدا کیا ہے دل سحر نے
تیرے دَر سے ستمگر، اب کوئی حسرت نہیں
تو ھے بے وفا یہ حقیقت سہی
ہم سبھی کو یہ راز بتاتے نہیں
تجھے پتھر کہوں یہ گورا نہیں
ورنہ تجھ میں بھلا دل کہاں ہے بتا
تو میرا قاتل بنا تو جاں کی عطا تمام ھوئی
سجایا تھال میں دل اپنا وفا تمام ہوئی
تو میرا قاتل بنا تو جاں کی عطا تمام ھوئی
جو ٹکرے تونے کئے دل کے وہ بکھرے ہی ہیں بھلے
کہ انکو جوڑنے کی ہر دعا تمام ھوئی
تو میرا قاتل بنا تو جاں کی عطا تمام ھوئی
تو اب کچلتا جا میرے دل کے ٹکڑوں کو
کبھی نکلتی تھی دل سے التجا تمام ھوئی
میرا وقار بنی ہے میری یہ خاموشی
اے ہم نشیں میری ساری انا تمام ھوئی
تو میرا قاتل بنا تو جاں کی عطا تمام ھوئی
لوگ دیکھیں تو کہیں کس کی ہے یہ خشبختی
کہ جس پیار میں جاں سحر کی تمام ہوئی
تو میرا قاتل بنا تو جاں کی عطا تمام ھوئی
دل کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹے ہوئے ہم
دل کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹے ہوئے ہم
اب کسی اور کے سانچے میں کہاں ڈھلتے ہیں؟
ہم نے اپنوں کی تحقیر کے خزانے بہت جھیلے
آئینے میں بھی اب اپنے سے حیا کرتے ہیں!
بے رخی اتنی سہی ہم نے محبت میں یہاں
اب تو ہم پیار کے لفظوں سے بھی بہت ڈرتے ہیں
مجھے لگتا تھا کہ وہ بدل دیں گے مقدر میرا
آج وہ بدل کر راستے، چپ چاپ نکلتے ہیں
اب مے خانے کی شراب کا کیا شکوہ کرنا
ہم تو زمانے کی تلخیوں کا زہر پیتے ہیں
ختم ہوا یہ تماشہ، اب آئینے کو توڑ دو سحرؔ
ٹوٹے ہوئے دل، بھلا شیشوں میں کب سنورتے ہیں؟
جس کے پاس آئی ہے دولت، وہی خود دار لگا.
امیرِ شہر کا ہر عیب بھی یہاں معیار لگا
غریبِ شہر کا اخلاص بھی ہمیشہ مکار لگا
زر دار کی عیاری بھی حکمت میں ڈھلی ہے
مفلس کی محبت تو فقط ایک مزاق لگا
وہ اگر مکر بھی لائیں تو سیاست ٹھہری
ہم نے گر سچ بھی کہا، اپنا بولنا فریب دار لگا
قدر کی ہم نے اگر، نام دیا چاپلوسی کا
ان کا ہر ایک دکھاوا ہی ہمیں سچا پیار لگا
ان کی مطلب کی یہ یاری تو بنی ایک کلاس
اپنا ہاتھ ان کو ہمیشہ ہی تو خوار لگا
ان کی لکھی ہوئی دو لائنیں فلسفہ بنیں
اپنا ہر دردِ جگر بھی ان کو تو بیکار لگا
کاش سمجھے یہ سحر! قدر و قیمتِ انسان
جس کے پاس آئی ہے دولت، وہی خود دار لگا.
پلٹ آؤ کہ ہونے کو ابھی نقصان باقی ہے
ابھی باقی ہیں کچھ سانسیں، ابھی ایمان باقی ہے
قفس زادِ تمنا میں، ذرا ارمان باقی ہے
پئے وصلِ سحر آؤ، کہیں حسرت نہ مر جائے
نگاہِ منتظر میں اب بھی اک امکان باقی ہے
نہ آنا تب کہ جب جادے پہ بس گردِ فنا اڑے
تپشِ غم میں ابھی تو محشرِ طوفان باقی ہے
رہِ پُر خار میں تحلیل ہیں بینائیاں میری
متاعِ جاں لٹانے کو ابھی سامان باقی ہے
خبر کر دو "سحر"! اس کج ادا، بے مہرِ دوراں کو
پلٹ آؤ کہ ہونے کو ابھی نقصان باقی ہے
تیری دنیا میں کوئی عکس نہ سایہ میرا
تیری دنیا میں کوئی عکس نہ سایہ میرا
میں تو کچھ بھی نہیں، تو ہے سرمایہ میرا
تیرا نام آئے تو سینہ یہ اچھل پڑتا ہے
جیسے ابلتا ہو کوئی بحرِ تمنا میرا
خفا بھی معصوم ہی ہے مونسِ جفا میرا
دل پہ ہے کیسا یہ آخر قبضہ تیرا ؟
میں خاموش ساحل ہوں، تو تند لہروں کا طوفان
تجھ سے ہی قائم ہے یہ جوش و تماشا میرا
بجھ نہ جائے یہ لگن، مٹ نہ جائے یہ تڑپ
تیری الفت میں ہی پوشیدہ ہے "سحر" میرا
دل کے رشتے بھی عجب ہوتے ہیں مونس
دل کے رشتے بھی عجب ہوتے ہیں مونس
ایک ہی لمحے میں کوئی محبوب ہو جائے
عشق کی راہ میں چلنے والا ہر اک خواب
ٹوٹ جائے تو دل کا مکتوب ہو جائے
تری چاہت میں ملا غم کا ہی تحفہ دیکھو
دردِ دل اب تو مِرا مطلوب ہو جائے
جس کی خاطر لٹائی ہم نے یہ اپنی ہستی
وہی جفاؤں سے اب منسوب ہو جائے
رخ بدل کر جو چُھپاتے ہو تم چہرہ اپنا
ستم تمہارا یہ دل کو مرغوب ہو جائے
مٹ گئے ہم تو تری بے رخی کے ہاتھوں مونس
اب تو جینے کا ہنر مصلوب ہو جائے
بجھ گئے آس کے سب ہی دیے دیکھو سحرؔ
پر یاد کا چراغ ہی اب مغلوب ہو جائے.
جو اپنا تھا ہی نہیں، کیا ہوا جو کھو دیا ہم نے
جو اپنا تھا ہی نہیں، کیا ہوا جو کھو دیا ہم نے
جو صرف اور صرف اسی کا تھا، وہ سب کھو دیا اس نے
محبت میں ملا جو درد، وہ چپ چاپ ہی جھیلا
دیا تھا زخم جو دل کو، بھلا کب رو دیا تم نے
فریب اس کا تھا، دھوکہ اس کا تھا، تو پھر یہ خوف کیسا؟
حسابِ حشر میں دیکھوں گی، ستم جو ڈھایا اس نے
وہ سمجھا تھا کہ ہم مٹ جائیں گے اس کے بدلنے سے
گرا کر اپنے ہاتھوں سے، اپنا ہی ایک ستارا کھو دی اس نے
ہمیں تو مل ہی جائے گا سکونِ دل، خدا سے اب
گنوا کر ایک سچا دل، بڑا نقصان کیا سب نے
اندھیری رات کٹ جائے گی، ایمان ہے میرا
مٹا کر تیرہ بختی کو، نیا اک رخ دیا سحر نے
دلِ ناپاک سے انسان کبھی بھی پاک کب ہو گا؟
دلِ ناپاک سے انسان کبھی بھی پاک کب ہو گا؟
کہ ابلیسِ کو بھی وضو کے یاد فرائض بہت ہیں
فقط سجدوں میں سر کو جھکانے سے کیا حاصل
یہاں تو روحِ انساں پر لگے دنیا کے عوارض بہت ہیں
دکھاوے کی عبادت سے نہیں ملتی خدا کی قربت
چھپے ہیں نفس کے پیچھے جو بندے کے حوائج بہت ہیں
اگر نیت میں کھوٹ ہو تو عمل سب رائیگاں ٹھہرے
زباں پر حق کا دعویٰ ہے مگر دل میں معارض بہت ہیں
چلو اب نفس کو ماریں، کریں دل کو مصفّا ہم
سحرؔ! ایمان کی راہ میں کٹھن امتحاں اور فرائض بہت ہیں
تو تھوڑا اور ذلیل کر مجھے
تو تھوڑا اور ذلیل کر مجھے
ابھی تیرے لیے پیار باقی ہے اس دل میں
بنا تھا جان سے پیارا، اپنا کہہ کر مجھے
اب بن رہا ہے وہ خود ہی بیگانہ اس دل میں
تیری یہ بے رخی اب مار ہی ڈالے مجھے
کیوں سلگ رہی ہے تیری ہی حسرت اس دل میں؟
دیا تھا مان پہلے، اب ستاتا ہے تو مجھے
بدل گیا ہے تو، پر نہ بدلا کچھ بھی اس دل میں
مرا یہ حال کر کے کیا ملا آخر بتا تجھے
میں کیسے اب رہنے دوں کوئی وہم اس دل میں
دیکھ کر روتا ہوا بھی ترس نہیں آتا تجھے
عجب پاگل پن ہے، اب بھی تیری چاہ ہے اس دل میں
برباد تو کر ہی دیا ہے، اب آ کر خاک میں ملا مجھے
کہ ختم ہو جائے تماشہِ سحر بھی اب اس دل میں
میں نے اپنی مخلصی وار دی تجھ پہ
میں نے اپنی مخلصی وار دی تجھ پہ
تجھ سے ایرے غیرے نہ وارے گئے مجھ پہ!
جو کھائے تھے دھوکے، وہ سب لکھ دیے دل پہ
اب چہرے محبت کے کھلتے نہیں مجھ پہ!
وہ باتیں، وہ وعدے، سب خاک ہوئے پل میں
اب جھوٹے دلاسے اثر کرتے نہیں مجھ پہ!
زمانے کی تلخی کا زہر پی لیا ہنس کے
پر اپنوں کے یہ طنز اب سجتے نہیں مجھ پہ!
ضروری نہیں کوئی وعدے لفظوں میں کر گزرے
کچھ وعدے سے بھی اونچے خواب بھاری تھے مجھ پہ!
میں مخلصی کی حد سے بھی اوپر گئی تھی بہت
یہ ٹوٹے ہوئے چہرے اب جچتے نہیں مجھ پہ!
میں خاموش کیا ہوئی، زمانہ ہی بدل گیا سحرؔ
اب مصلحت کے فیصلے چلتے نہیں مجھ پہ!
بڑے بے عدل ہیں ہم بھی محبت اور عداوت میں
جسے چاہا، اسی کی ہر خطا کو بھول بیٹھے ہیں
جہاں نفرت ہوئی، حسنِ قبا کو بھول بیٹھے ہیں
بڑے بے عدل ہیں ہم بھی محبت اور عداوت میں
ملا جو درد اک، تو پھر بہت دوا کو بھول بیٹھے ہیں
کبھی اندھے بنے ایسے کہ عیبوں کو چھپایا ھے
کبھی رنجش میں اس کی پارسائی بھول بیٹھے ہیں
ترازو عدل کا اپنے ہی ہاتھوں سے گرا کر ہم
بدلا جو ذرا موسم ، صفائی بھول بیٹھے ہیں
اسی کی چاہ میں ہم نے برائی تک کو اپنایا
مگر وہ چاہ کو چھوڑے، برائی یاد رکھتے ہیں
بدل ڈالا تھا خود کو جس کی حاکم سی انا خاطر
وہ اپنی ضد کو بھولے، اور لغزش یاد رکھتے ہیں
سحرؔ جو ہمکو ملے زخم کیا وہ مرہم بنے سارے
خطا اک ہم سے کیا ہوئی، وہ سب بھول بیٹھے ہیں
مسافتیں لمبی تھیں یا سفر نے تھکا دیا
مسافتیں لمبی تھیں یا سفر نے تھکا دیا
تجھے کیا بتاؤں میرے ہمنشیں کس غم نے مجھے رلا دیا
جو کبھی غرورِ حیات تھا، وہ جو دُعاؤں کا شمار تھا
اُسی بے وفا کے ملال نے مری زندگی کو مٹا دیا
جو جلا کے بیٹھے تھے داغِ دل، وہی تیرگی کا سبب بنا
جو روشنئے سفیر تھا، اِسی واہمے نے دغا دیا
ہمیں جس کی چھاؤں عزیز تھی، وہی پیڑ دشتِ بلا ہوا
ہمیں اِسی عجز و نیاز نے، اِسی راستے میں گرا دیا
یہ جو تیرگی کا عذاب ہے، یہ کٹے گا کس کے یقین پر
جسے چاند بن کے چمکنا تھا، اُسی سحرؔ نے ہے رلا دیا
ہم انگلیوں کے پوروں سے، نصیب ناپتے رہے
ہم انگلیوں کے پوروں سے، نصیب ناپتے رہے
وہ جو کائناتِ دست تھے، غیر کی جاگیر بن گئے۔
آج ان ہاتھوں کو حسرت سے بڑی دیر تکتے رہے،
جو لکیروں میں میرا نام تھا، اور کے قریب بن گئے۔
ہم عمر بھر جن کی تمنّا کی دھوپ میں جلے،
وہ سائے کسی اور کی رات کا حبیب بن گئے۔
ہم اپنے ہی ہاتھوں کی لکیروں کو روتے ہی رہے،
وہ پورے کے پورے ہاتھ، کسی اور کا نصیب بن گئے۔
اب عمر بھر کی تیرگی کو اپنا مقدر سمجھ 'سحر'،
وہ ہاتھ جو صبحِ نو تھے میرے ، دستِ رقیب بن گئے۔
رُلایا اس کو جاتا ہے جسے ہنستے ہوئے دیکھو
رُلایا اس کو جاتا ہے جسے ہنستے ہوئے دیکھو
جو پہلے سے ہی روتا ہو، اسے رُلایا نہیں جاتا
ہمیشہ وار ہوتا ہے یہاں زندہ سلامت پر
جو مر جائے محبت میں، اسے مارا نہیں جاتا
مرا ظرف کہتا ہے، نعمتِ الفت جو ٹھکرائے
وہاں سے چھین لیتی ہوں دعائیں بھی، وفائیں بھی
تو بے قدر برحق ہے، میں واپس لے ہی لیتی ہوں
جو دھوکے سے ہی مانگی ہو، یا چھینی و جھپٹی ہو
مگر تحفے میں دی جائے محبت ہو یا دولت ہو
دیا ہو ظرف والے نے، سحرؔ، تحفہ چھینا نہیں جاتا
ہوا کے دوش پر اک خواب لکھ کر چھوڑ آئے ہیں
ہوا کے دوش پر اک خواب لکھ کر چھوڑ آئے ہیں
درِ دل پر نیا اک باب لکھ کر چھوڑ آئے ہیں
کسی کی یاد کا سورج جو دل میں ڈوبتا ہے تو
ہم اپنے اشک کا ہر آب لکھ کر چھوڑ آئے ہیں
زمانے کی یہ ریت و رسم کیا ہم کو ڈرائے گی
سرِ دیوار اپنا جواب لکھ کر چھوڑ آئے ہیں
بھلا کب تک چھپائیں گے اداسی کے یہ افسانے
نگاہِ شوق کا احوال لکھ کر چھوڑ آئے ہیں
جدائی کی گھڑی تھی اور اس کا نام آیا تھا
زمیں پر پیار کا اک خواب لکھ کر چھوڑ آئے ہیں
سفر میں ہمدمِ جانی کو سراب لکھ کر چھوڑ آئے ہیں
جسے چاہا، اسی کو اک عذاب لکھ کر چھوڑ آئے ہیں
پکڑنا چاہا تھا جس کو ، ریت کی مانند ہی وہ پھسلا
سحر،اپنے ہاتھ میں بس اضطراب لکھ کر چھوڑ آئے ہیں
عَکسِ پِندار ھے وہ، یا کوئی مَیرا وَہم ھے
دِل کی جاگِیر کا اَحوال تُمہیں کیا مَعلُوم
عِشق کی رَمز کا یہ سَوال تُمہیں کیا مَعلُوم
جَیسے گوشت خور، گھاس کا ذائقہ نہ جانے
اَیسے ہی اُلفت کا کَمال تُمہیں کیا مَعلُوم
مَیں نے مَحَبّت جِسےکی ھے ، وہ تُم تو نَہِیں ہو
تُم جو نِکلے ہو بَدَل، یہ مَلال تُمہیں کیا مَعلُوم
عَکسِ پِندار ھے وہ، یا کوئی مَیرا وَہم ھے
جِسے پُوجا گیا ماہ و سال، ہے کَون تُمہیں کیا مَعلُوم
تُم تو واقِف ہی نَہِیں اُلفتِ تَاثِیر سے اَب
مَیری چاہَت کا یہ جَلال تُمہیں کیا مَعلُوم
تُم تو ساحِل پہ کھڑے دیکھ رہے ہو طُوفاں
ڈُوبتے دِل کا یہ زلزال تُمہیں کیا مَعلُوم
دِل کَہتا ہے کہ دیر سے پَہنچ کر گَنوایا ہے اسے
مُجھ میں اُٹھتا ہے جو یہ سَوال تُمہیں کیا مَعلُوم
سُنی جو غَیر کی باتیں تو کھو دی قَدر بھی مَیری
رُتبہ دِل جو کِیا تُم نے پامال، دَرد مَیرا تُمہیں کیا مَعلُوم
مُجھے مداری کہا، چالوں کا اِلزام دے کَر
دی جو تُہمَتِ فَرِیب کا وبال، تُمہیں کیا مَعلُوم
مَیرے سَجدوں کی گَواہی تو خُدا دے گا تُمہیں
مَیری عَقِیدَت کا یہ مَآل تُمہیں کیا مَعلُوم
تُم نے سَمجھا ہے فَقَط کھیل مَحَبّت کو یہاں
رُوح کی تَڑپ کا یہ اِجمال تُمہیں کیا مَعلُوم
کِتنی صَدیوں کی رِیاضَت تھی تُمہیں پانے میں
کھو دِیا تُم نے جو فی الحال تُمہیں کیا مَعلُوم
بٹھایا تھا جِس جگہ تُمہیں، وہ مَقام کِسی اَور کو دُوں؟
اِس تَبدیلی کا اُٹھے گا جو دِل میں ہَڑتال، تُمہیں کیا مَعلُوم
رات بَھر جاگ کے کَٹتی ہے یہ کٹھن زِندگی
ہِجر میں دِل کا جو ہے میرا حال تُمہیں کیا مَعلُوم
اَکیلے کاٹنی پڑے گی اَب یہ بے دَرد زِندگی کَیسے
تَنہائی کی راہوں کا یہ کٹھن جَنجال، تُمہیں کیا مَعلُوم
مَیں نے پَلکوں پہ سَجائے تھے سِتارے تیرے
اَب جو آنکھوں میں ہے بَہتا سِیال تُمہیں کیا مَعلُوم
تُو نے دیکھا ہی نَہِیں ٹُوٹ کے بِکھرنا مَیرا
شِیشے کے ٹُوٹنے کا دَھمال تُمہیں کیا مَعلُوم
دِل کے مَقتَل میں جو رَونق ہے مَیری آہَوں سے
اِس اُداسی کا یہ جَمال تُمہیں کیا مَعلُوم
تُم ہَنسی دیکھ کَر ہی گُزَر جاتے ہو مَحفِل سے مَیری
مُسکراہَٹ کے پِیچھے کا تال تُمہیں کیا مَعلُوم
کِتنے اَرمان تھے جو خاک میں تُم نے رولے
اِن اُمِیدوں کا یہ سِسکتا بال تُمہیں کیا مَعلُوم
اَب کوئی خواب سَجانے کی سِکَندَر میں نَہِیں
مَیری وِیرا
بھروسہ حد سے بڑھ کر، کر کے دیکھ لیا
بھروسہ حد سے بڑھ کر، کر کے دیکھ لیا
لگا کر داؤ پر اپنا ہی دل، مَر کے دیکھ لیا
اُمیدِ بوسہِ رُخسار پر کھایا ہے جی طمانچہ
ملامت کا، ملامت سے ہی مُنہ بھر کے دیکھ لیا
تکبُّر کی جھڑک پر بھی جُھکے پائے تعظیم پر
ذلیل و خوار ہو کر، خاک پر گِر کے دیکھ لیا
پہنایا ہار لعنت کا، کِیا مصلوب الفت کو
جنازہ عشق کا کاندھے پہ دھر کے دیکھ لیا
اُٹھا کر لاشِ الفت اب الگ اِک سمت جاتے ہیں
بچے کُھچے جو ارماں تھے، انہیں آج مرتے دیکھ لیا
گلا کاٹا ہے جس بے درد شمشیر نے میرا
اِسی شمشیر سے اُمیدِ زندگی رکھ کے دیکھ لیا
کیا یاد آئے گا اُس کو کٹا مصلوب یہ گردن؟
یہ صدمہ جھیل کر، اب آہ بھر کے دیکھ لیا
مِلا کچھ بھی نہیں سحرؔ محبت کے عوض لیکن
خسارہ عشق میں خود کا سراسر کر کے دیکھ لیا
اِک عُمْر گَن٘وائی ہے ہَم نے، اِک خواب کی حَسْرَت میں
اِک عُمْر گَن٘وائی ہے ہَم نے، اِک خواب کی حَسْرَت میں
ہَم تُم سے مُحَبَّت نَہ کَرتے، نَجانے کَیا کَیا کَرتے
طاقَت بھی گئی دِل کی، اور عُمْر بھی بَرْباد ہُوئی
اِس راہ میں بھَٹْکے نَہ ہوتے، تو دُنْیا فَتَح کَرتے
جو حاصِل ہی نَہِیں ہونا، کیوں اُس کے پِیچھے دَوْڑے
یَہ وَقْت جو خُود کو دیتے، تو اَپْنی قَدْر کَیا کَیا کَرتے
تِرے ہِجْر کے دُکھ نے تو، ہَمیں توڑ کے رَکھ ڈالا
ہَم اَپنے ہی رَن٘گ میں جِیتے، تو جِینے کا حَق اَدا کَرتے
بَرْباد ہُوئے اَیسے، کہ اَب کوئی آس نَہِیں رہی بَاقی
سَحَرؔ اِس عِشْق کے بَدْلے، ہَم خُود ہی خُود کو آباد کِیا کرتے
دلِ محرم جسے سمجھا، وہ بے مہرِ جہاں نکلا
دلِ محرم جسے سمجھا، وہ بے مہرِ جہاں نکلا
اڑائی جس نے کھلی، وہ میرا ہی رازداں نکلا
مری سادگی کو جس نے جَہالت کا نام دیا
مری ہر اک فطانت پہ، وہ عیبِ بیاں نکلا
خود کو معتبر سمجھا، مجھے وہ کم مایہ کہہ گیا
مرا رتبہ گرانے میں، وہ کتنا نکتہ داں نکلا
جو کرتا تھا مری تعظیم، وہ بس اک دکھاوا تھا
مری تسکینِ دل دیکھ کر، وہ محوِ تمسخر خواں نکلا
وہ عکسِ پندارِ دل کھو گیا، اک وہم تھا شاید
نہ ڈھونڈوں گی اسے میں، کہ وہ تو بس گماں نکلا
ملائے گا خدا جنت میں، وہ بدلے گا نہیں ہرگز
خیالوں میں ہی چاہوں گی، دلِ مضطر فغاں نکلا
اندھیری رات کٹ جائے گی، ایمان ہے میرا
. مری اس تیرہ بختی سے، نیا حسنِ سحر نکلا
دل نکال لو خنجر سے یا جفا سے لیتے رہنا،
دل نکال لو خنجر سے یا جفا سے لیتے رہنا،
مجھے پاس رکھ کر چاہے ستم کا مزہ لیتے رہنا۔
دردِ دل کی میرے پاس کوئی دوا ہی نہیں،
بس تیرے ہاتھ سے زخموں کی سزا لیتے رہنا۔
مجھے منظور ہے، ہر ایک ستم اے شہسوار،
تو میرے خونِ جگر سے اب وفا لیتے رہنا۔
میری آنکھوں میں آنسو دیکھ کر مسکرانا تم،
میری بے بسی سے اپنی حیا لیتے رہنا۔
کوئی شکوہ نہ ہوگا کبھی زبان پر میری ،
تم اپنے ہر ایک ظلم کی گواہ لیتے رہنا۔
تڑپتی رہے گی یہ جاں رات بھر تیری یاد میں،
تو میری سسکیاں سن کر نشہ لیتے رہنا۔
اگر کم پڑ جائے تیرے جشن کو رنگِ سُرخی،
تو میری رگوں سے یہ خوں بہا لیتے رہنا۔
میری ہر سانس پر بس تیرا ہی نام ہو،
تو میری اس خاموشی سے صدا لیتے رہنا۔
تیری نظروں کے سامنے ہی دم نکلے میرا،
تو ہر اک روز مار دینےکی ادا لیتے رہنا۔
موت آئے تو تیرے ہی ہاتھوں سے آئے مجھے،
زندگی بھر تو محبت میں بس قضا لیتے رہنا۔
تیری چوکھٹ سے نہ اٹھے گا جنازہ میرا،
تو مرنے کے بعد بھی مجھ سے حیا لیتے رہنا۔
بنا دینا میری خاک سے اک کھلونا تم،
اور کھیل کر اس سے دل کی گرہ لیتے رہنا۔
مٹ کے بھی نہ چھوٹے گا تیرے عشق کا دامن،
بوجھل نہ ہو جائے دل، یہ گمان لیتے رہنا۔
لو ہنس کے لٹا دی ہے 'سحر' نے جاں اپنی،
.تم ہاتھ میں اب خنجرِ بیداد لیتے رہنا
جس طرح رات گئی دن بھی گیا ہاتھوں سے
جس طرح رات گئی دن بھی گیا ہاتھوں سے
اس طرح کسی شام ہم نے بھی گزر جانا ہے
جس نے روکا ہی نہیں ہم کو کبھی جانے سے
اس کی بستی میں بھلا ہم نے کہاں رہنا ہے
وقت کی تیز ہواؤں کا یہ جھونکا ہے میاں
نقشِ پا بن کے ہمیں خاک میں مل جانا ہے
لوگ کہتے ہیں کہ اک روز بدل جائے گا وقت
ہم نے تو وقت کے سانچے میں ہی ڈھل جانا ہے
شمعِ محفل کی طرح جلتے رہے ہم تو سدا
صبح ہوتے ہی مگر ہم نے بھی بجھ جانا ہے
آج روتے ہیں جو کل ہنس کے اڑاتے تھے ہمیں
ان کی آنکھوں کو بھی اک روز تو نم ہونا ہے
روشنی بن کے چمکنا ہے اندھیروں میں ہمیں
اے سحر! موت کے سائے سے کہاں ڈرنا ہے
اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے
وہ کاغذ کی کشتی، وہ بارش کا مہینہ
اب ڈھونڈنے سے بھی وہ خزانے نہیں آتے
دنیا کی ہوس نے ہمیں سنجیدہ بنا دیا
اب دل کو وہ معصوم بہانے نہیں آتے
مٹی کے کھلونوں سے وہ بہلایا ہوا دل
اب روٹھنے پر جس کو منانے نہیں آتے
ہر موڑ پہ چہروں پہ نئے چہرے سجے ہیں
کیوں لوٹ کے اب لوگ پرانے نہیں آتے
خوابوں کی اڑانیں بھی اب تھک ہار گئی ہیں
بچپن کی طرح اڑتے پرندے نہیں آتے
دنیا کی بھیڑ میں ہم تنہا کھڑے ہیں
سحر اب ہمیں وہ ہنسنے کے بہانے نہیں آتے
ہاتھوں کی لکیروں پہ مت جا اے انسان
ہاتھوں کی لکیروں پہ مت جا اے انسان
مقدر ان کا بھی ہوتا ہے جن کے ہاتھ نہیں ہوتے
جو لڑتے ہیں طوفاں سے بنا کر خود ہی رستہ
وہ منزل کی تلاش میں کبھی ناچار نہیں ہوتے
مل جاتی ہے رفعت انہیں محنت کے صلے میں
جو قسمت کے بھروسے پہ عزادار نہیں ہوتے
پرندوں کو کہاں ملتی ہے لکھی ہوئی منزل
پر تول کے اڑتے ہیں وہ لاچار نہیں ہوتے
مٹ جاتے ہیں دنیا سے مگر جھکتے نہیں وہ
جو غیرتِ خودی کے کبھی غدار نہیں ہوتے
بدل دیتے ہیں دنیا کو وہ اپنی ہی لگن سے
جو حالات کے آگے کبھی تسلیم نہیں ہوتے
امید کا اک دیپ جلا کر تو دیکھو
سحر اندھیرے کبھی اتنے بھی پائیدار نہیں ہوتے
عمر بھر ہم یہی بھول کرتے رہے
عمر بھر ہم یہی بھول کرتے رہے
دھول چہرے پر تھی اور آئینہ صاف کرتے رہے
وہ بدلتے رہے اپنے چہرے مگر
ہم زباں کے بھروسے پہ اعتبار کرتے رہے
جن کے دامن میں کانٹے ہی کانٹے رہے
ان کی راہوں میں ہم پھول نچھاور کرتے رہے
دل کے ارمان لٹتے رہے سامنے
اور ہم بے بسی میں بس آہیں بھرتے رہے
ہم نے مانگی تھی جن سے وفا کی دعا
وہ زمانے میں ہم کو ہی بدنام کرتے رہے
راستے موڑ کر وہ تو آگے بڑھے
ہم وہیں بیٹھ کر بس انتظار کرتے رہے
جن کی خاطر لٹائی تھی سچی خوشی
سحر وہ حسابِ غمِ دل وصول کرتے رہے
پتھر بنے ہیں اب تو یہ حیرت کیسی جناب
پتھر بنے ہیں اب تو یہ حیرت کیسی جناب
جب موم کے تھے ہم تو جلائے بہت گئے
ہم نے لٹائی عمرِ رواں جن کی راہ میں
وہ پہلے ہی موڑ پہ چھوڑ کے آگے نکل گئے
جن کے لیے بھلایا تھا ہم نے خودی کو بھی
وہ رخ بدل کے ہم سے چھپائے بہت گئے
آئے نہ زخمِ دل کی کبھی تاب ہم مگر
اس زندگی میں رنج و غم اٹھائے بہت گئے
اب تو لہو بھی خشک ہے آنکھوں کا اے جگر
دیدہِ تر سے اشک بہائے بہت گئے
بکھری ہیں کرچیاں مری ہستی کی چار سو
آئینے مری ذات کے توڑے بہت گئے
خلوت کی تیرہ بختی سے شکوہ نہیں ہمیں
ہمیں اجالوں کے بھی فریب آئے بہت گئے
ہم نے تو روشنی ہی لٹائی تھی عمر بھر
پر تیرگی کے سائے ستائے بہت گئے
اب تو دل پہ زخم کا کوئی اثر نہیں
اس شہرِ آرزو میں دکھائے بہت گئے
مقتل بنی ہے اب تو یہ خلوت گہِ ستم
بربادی کے یہاں پہ منائے بہت گئے
تاریکیِ شب سے اب ہمیں لگتا نہیں ہے ڈر
ہمیں اجالوں کے بھی فریب آئے بہت گئے
بجھ گئے ہیں آس کے سب ہی دیے سحر
پر یاد کے چراغ جلائے بہت گئے
حالات کی گردش کا نچوڑا ہوا شخص
حالات کی گردش کا نچوڑا ہوا شخص
میں ہوں درِ محبوب سے ہی موڑا ہوا شخص
تو آئنہ ہے اور میں اک عکس ہوں تیرا
تو ٹوٹا تو میں دکھوں گا بکھرا ہوا شخص
جذبات کی دنیا کا ،میں چھوڑا ہوا شخص
کیا خاک جڑے گا، تیرے ہاتھ سے توڑا ہوا شخص
امید کی شمعیں بھی بجھیں وقت کے ہاتھوں
طوفان کی زد میں ہے یہ جھوڑا ہوا شخص
دیوارِ تمنا بھی گری دل کی زمین پر
ملبے تلے یادوں کے سکیڑا ہوا شخص
منزل کی طرف گامزن اب ہو نہیں سکتا
راہوں میں حوادث کا یہ روڑا ہوا شخص
احباب نے دیکھا نہ کبھی زخمِ جگر کو
محفل میں تو ہنستا ہے یہ توڑا ہوا شخص
سایہ بھی مرا مجھ سے خفا رہتا ہے ہر دم
تنہائی کی راہوں میں اب دوڑا ہوا شخص
کچھ خواب سجائے تھے جو مٹی میں ملائے
حسرت کی ہی باہوں میں مروڑا ہوا شخص
آسان نہیں ہجر کے صدمات کو سہنا
قسمت کے تقاضوں سے بچھوڑا ہوا شخص
پہچان نہیں پائے گی اب خلقِ خدا بھی
غم کے ہی غباروں میں سکوڑا ہوا شخص
دیکھے گی "سحر" اب نہ کبھی لوٹ کے واپس
اس بزم محبت سے مکھ موڑا ہوا شخص
ھے یہ عاجزی میری، تم اوقات مت سمجھو
مجھے تم عام ہی رکھو، مجھے تم خاص نہ سمجھو
ملا دو خاک میں بے شک، چلو پھر خاک تو سمجھو
میں ہنس کر ٹال دیتی ہوں تمہاری ہر ملامت کو
تمہارا ظرف ہے جتنا، میرا احساس تو سمجھو
بچا رکھا ہے میں نے اب بھی اس رتبے کو محفل میں
جو تم کو دے چکی ہوں میں، اسے اک تاج تو سمجھو
محبت نہ سہی ، میری انا کا پاس ہے شاید
گری نا خود کی نظروں میں ، تم یہ بات تو سمجھو
بہت گہرے تعلق نے ہمیشہ زخم دے ڈالے
رکھو دوری، مگر پامالِ رسمِ ذات تو سمجھو
ادھوری حسرتوں کا ڈھیر ہوں میں ایک کونے میں
نہ سمجھو عشق تم، گزری ہوئی ملوکات تو سمجھو
جھکی جو ہوں حیا سے، تم مری اوقات مت سمجھو
سحر یہ عاجزی ہے، خود کو تم میرا خدا نہ سمجھو
تم میرے دل میں خنجر کی طرح رہتے ہو رہنے دوں تو خون بہتا رہتا ہے، نکال دوں تو جان جاتی ہے
یہ دنیا بھی تماشائی بنی بیٹھی ہے محفل میں
سہوں تو آن جاتی ھے ، نہ سہوں تو جان جاتی ہے
میری غیرت کو اب وہ بدتمیزی کا نام دیتے ہیں
جو بولوں تو گلہ ٹھہرے، نہ بولوں تو جان جاتی ہے
تم میرے دل میں خنجر کی طرح رہتے ہو رہنے دوں
تو خون بہتا رہتا ہے، نکال دوں تو جان جاتی ہے
تری یادیں بھی اب سانسوں کی طرح آتی جاتی ہیں
نہ بھولوں تو تڑپتی ہوں، جو بھولوں تو جان جاتی ہے
عجب دھڑکن کا رشتہ ہے تمہاری بے رخیوں سے سحر
سنوں تو دل دکھاتا ہے، نہ سنوں تو جان جاتی ہے
پینا اسے نہیں کہتے جو پیتے مے خانے میں سحرؔ
پینا اسے نہیں کہتے جو پیتے مے خانے میں سحرؔ
پینا تو یار کے غموں کو ہے، جس میں گناہ نہیں!
مسجد ہو، بیاباں ہو یا جنت، ہمیں جگہ سے کیا؟
ہم تو دکھوں کو پیتے ہیں، اس پر سزا نہیں!
وہ ہر جگہ موجود ہے تو پھر جگہ کی بحث ہی کیوں؟
ہم دردِ دل پیتے ہیں وہاں، جہاں کوئی دیکھتا نہیں!
پوچھا گیا ہے، اہلِ مے کے سلسلے میں آنے کا سبب
ہم بھی تو زہرِ وقت پیتے ہیں، کیا یہ پینا نہیں؟
زاہد نہ کر ملامت ہمیں ہمارے اکھڑ مزاج پر
جو درد ہم نے جھیلا ہے، وہ تو نے جیا نہیں!
دنیا سمجھ رہی ہے ہمیں رند و خراب و بے عمل
اس دل کے ٹوٹنے کا مگر کسی کو پتا نہیں!
ختم ہوئی بحث یہاں، سمیٹ لو مے اور مصلّے سحرؔ
وہ دل میں دھڑکتا ہے، جو کہیں ملتا نہیں!
آئینہِ بے قدری
وہ رگِ جاں سے ہے واقف، تپش پہچانتا ہے
تکلیف دینے کے ہنر، وہ خوب جانتا ہے
نہ اظہارِ محبت ہے، نہ وہ رہتا ہے بیگانہ
وہ دیر سے دھیان دے کر، امتحان لیتا ہے
وہ میرے سامنے غیروں کی ستائش کرتا ہے
مگر مری رعنائی کو، وہ خاک میں ملاتا ہے
کمالِ حسن نہیں یہ، بس حسنِ نظر ہے
مری چاہ کا آئینہ، اسے حسین بناتا ہے
نہ میں بدصورت ہوں، نہ مری ذات بے رونق
اس کی بے قدری کا آئینہ، کم تر دکھاتا ہے
جسے ہم چاہتے ہیں، وہی مسمار کرتا ہے
ہماری بے بسی کو، تماشائے جہاں بناتا ہے
تمام حالات اپنے، اب بیاں بھی کیوں کرے
محب تو اپنی یہ قسمت، پہلے سے جانتا ہے
وہ جو ٹوٹا تارہ بن کر گرا ہے میرے دل پر
سحرؔ! وہی بے قدر اب مری جاں کو بھاتا ہے
#seharalvi #urdupoetry
عشق بھی کر لیا اور سکون بھی چاہتے ہو
عشق بھی کر لیا اور سکون بھی چاہتے ہو
یعنی زہر بھی پی لیا اور جینا بھی چاہتے ہو
دل لگا کر کسی سے اب روتے ہو رات بھر
خود ہی لائے ہو طوفاں اور سفینہ بھی چاہتے ہو
دردِ دل بھی چاہیئے اور رسوائی کا ڈر بھی ہے
آگ بھی چھپاتے ہو اور دھواں بھی چاہتے ہو
تیری محفل میں اب کوئی پرسانِ حال نہیں
شہرِ خاموشاں میں تم اب جینا بھی چاہتے ہو
غم کی اس تیرگی میں اک اُمیدِ نو ہو تم
بڑی ناداں ہو سحر، رات میں دن بھی چاہتے ہو
مُنحرِفِ مجبور
محبت تو کریں گے ، تم سے نہ کہیں گے
ہر رازِ تمنا فقط ، دل میں ہی رکھیں گے
بھلےتڑپے رہیں گے تری چاہ میں ہمیشہ
مگر اشکِ ندامت نہ آنکھوں سے بہیں گے
نہ شکوہ ہی کریں گے، نہ شکایت ہی ہوگی
جو تم نے دیے درد، وہ ہنس کے ہی سہیں گے
ذکرِ الفت جو آیا ، کبھی محفل میں ہماری
مسکرا کے چپ چاپ وہاں بیٹھے رہیں گے
بے زار ہی ہو جائے گا تو ، محبت سے ہماری
مکر کر اب سحر ، ناشناسا ہی رہیں گے
اُمیدِ مصلوب
بھروسہ حد سے بڑھ کر یار پر کر کے دیکھ لیا
لگا کر داؤ پر اپنا ہی دل، مَر کے دیکھ لیا
اُمیدِ بوسہِ رُخسار پر کھایا ہے جی طمانچہ
ملامت کا، ملامت سے ہی مُنہ بھر کے دیکھ لیا
تکبُّر کی جھڑک پر بھی جُھکے پائے تعظیم پر
ذلیل و خوار ہو کر، خاک پر گِر کے دیکھ لیا
پہنایا ہار لعنت کا، کِیا مصلوب الفت کو
جنازہ عشق کا کاندھے پہ دھر کے دیکھ لیا
اُٹھا کر لاشِ الفت اب الگ اِک سمت جاتے ہیں
بچے کُھچے جو ارماں تھے، انہیں آج مرتے دیکھ لیا
گلا کاٹا ہے جس بے درد شمشیر نے میرا
اِسی شمشیر سے اُمیدِ زندگی رکھ کے دیکھ لیا
کیا یاد آئے گا اُس کو، کٹا مصلوب یہ گردن؟
یہ صدمہ جھیل کر، اب آہ بھر کے دیکھ لیا
مِلا کچھ بھی نہیں سحرؔ محبت کے عوض لیکن
خسارہ عشق میں خود کا سراسر کر کے دیکھ لیا
روگِ مُحَبَّت
اِک عُمْر گَن٘وائی ہے ہَم نے، اِک خواب کی حَسْرَت میں
ہَم تُم سے مُحَبَّت نَہ کَرتے، نَجانے کَیا کَیا کَرتے
طاقَت بھی گئی دِل کی، اور عُمْر بھی بَرْباد ہُوئی
اِس راہ میں بھَٹْکے نَہ ہوتے، تو دُنْیا فَتَح کَرتے
جو حاصِل ہی نَہِیں ہونا، کیوں اُس کے پِیچھے دَوْڑے
یَہ وَقْت جو خُود کو دیتے، تو اَپْنی قَدْر کَیا کَیا کَرتے
تِرے ہِجْر کے دُکھ نے تو، ہَمیں توڑ کے رَکھ ڈالا
ہَم اَپنے ہی رَن٘گ میں جِیتے، تو جِینے کا حَق اَدا کَرتے
بَرْباد ہُوئے اَیسے، کہ اَب کوئی آس نَہِیں بَاقی
سَحَرؔ اِس عِشْق کے بَدْلے، ہَم خُود ہی خُود کو آباد کِیا کَرتے
میں فناہ ہوں تیرے عشق میں
میں فناہ ہوں تیرے عشق میں، تجھے دوسروں کا خیال ہے
کبھی میرے دل کی بھی بات سن، مری تو زندگی کا سوال ہے
یہ جو فاصلوں کی ہے داستاں، یہ جو دوریوں کا ہے سلسلہ
کبھی تو بھی آ کے قریب دیکھ، میرا کیا ترے بن حال ہے
نہ وہ روشنی، نہ وہ رونقیں، نہ وہ رات بھر کی ہے گفتگو
تیرے بعد اب اس حیات میں، ہر ایک سمت زوال ہے
میں تو مٹ گیا تری راہ میں، مگر اب بھی دل کو امید ہے
تری بے رخی، اور یہ ستم، مری چاہتوں کا ہی تو کمال ہے
تیرے عشق کا یہ جو روگ ہے، مری جان کا یہ وبال ہے
نہ تو آ سکا نہ میں جی سکا، بن ترے مرنا بھی محال ہے
کسی اور سے ہے وفا تری، مری چاہتوں کا زوال ہے
مری سمت تیرا یہ رخ سدا، تری ذات کا جاہ و جلال ہے
نہ سوچو، کہ تری طلب، مجھے دے گئی کوئی درد و غم
مری کیفیت پہ نہ جائیو، نہ سحرؔ کو کوئی ملال ہے
(خودی نا بیچ(وجہ امیری کمانا ہو یا لوگوں کی دید
مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر
— علامہ اقبال
ہم غریب ہوں یا امیر یہ میٹر نہیں کرتا بلکہ میٹر یہ کرتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو پیسے کیلئے کتنا گراتے ہیں
اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ ہم اپنے آپ کو لوگوں میں اچھا ثابت کرتے ہوئے کتنا گرا رہے ہیں یہ بھی میٹر کرتا ہے.
جہاں بات عزت کی ہو وہاں ہمیں کمپرومائز نہیں کرنا چاہیے ورنہ کچرا ٹائپ لوگ بھی آپ کے سر پہ چڑھ کر کودنے لگے گے.
رحم کریں مگر اس حد تک جس حد تک آپ سیلف رسپکٹ کھو نا دیں...
اپنا آپ گرا دینا اور رحم کرنے میں فرق ہوتا ہے...
اگر لوگوں پہ رحم کرنا نیکی ھے تو اپنی عزت کا خیال رکھنا بھی فرض ہوتا ہے.
مُضمَحِل سَحَر (Muzmahil Sahar
اِک شَخص نے نَہِیں مُجھے مُضمَحِل کِیا ہے
مَعتَبَر لوگوں نے جَوانی میں بَرباد کِیا ہے
جو مِلا، حُسن کی چَمک پہ مِری وہ
حِصّے کی اَپنے دُھول ہی بَس ڈال گَیا ہے
ٹُوٹ کَر جُڑنے کی جو تَکلِیف تھی جاناں
دِلِ مُضطَر نے مِری، اِس پہ دِھیان دِیا ہے
اَب کے جو ٹُوٹی ہُوں تو یہ ٹھان لِیا ہے
اَب نَہ چاہُوں گی کہ پھِر سے کوئی آباد کِیا ہے
شاد کِیا کَرنا اَب مُجھے اِس بَزمِ جَہاں میں
جَب ہَر اِک مَعتَبَر نے یہاں ناشاد کِیا ہے
اِس آخِری دُھتکار کو سِینے سے لَگا کَر
نَئے زَہر کی جَگہ اِسی کو آخِری مان لِیا ہے
نَئے تُحفے تو نَہِیں اَب مُجھ سے سَنبھاَلے جاتے
سَحَر کو بَس اِنہی تُحفوں سے سُپَردِ خاک کِیا ہے
آخری پکار
ابھی باقی ہیں کچھ سانسیں، ابھی ایمان باقی ہے
قفس زادِ تمنا میں، ذرا ارمان باقی ہے
پئے وصلِ سحر آؤ، کہیں حسرت نہ مر جائے
نگاہِ منتظر میں اب بھی اک امکان باقی ہے
نہ آنا تب کہ جب جادے پہ بس گردِ فنا اڑے
تپشِ غم میں ابھی تو محشرِ طوفان باقی ہے
رہِ پُر خار میں تحلیل ہیں بینائیاں میری
متاعِ جاں لٹانے کو ابھی سامان باقی ہے
خبر کر دو "سحر"! اس کج ادا، بے مہرِ دوراں کو
پلٹ آؤ کہ ہونے کو ابھی نقصان باقی ہے
حرفِ غریب
امیرِ شہر کا ہر عیب بھی یہاں معیار لگا
غریبِ شہر کا اخلاص بھی ہمیشہ مکار لگا
زر دار کی عیاری بھی حکمت میں ڈھلی ہے
مفلس کی محبت تو فقط ایک مزاق لگا
وہ اگر مکر بھی لائیں تو سیاست ٹھہری
ہم نے گر سچ بھی کہا، اپنا بولنا فریب دار لگا
قدر کی ہم نے اگر، نام دیا چاپلوسی کا
ان کا ہر ایک دکھاوا ہی ہمیں سچا پیار لگا
ان کی مطلب کی یہ یاری تو بنی ایک کلاس
اپنا ہاتھ ان کو ہمیشہ ہی تو خوار لگا
ان کی لکھی ہوئی دو لائنیں فلسفہ بنیں
اپنا ہر دردِ جگر بھی ان کو تو بیکار لگا
کاش سمجھے یہ سحر! قدر و قیمتِ انسان
جس کے پاس آئی ہے دولت، وہی خود دار لگا
تیرا چہرہ جو اک جھلک دکھ جائے
تیرا چہرہ جو اک جھلک دکھ جائے
دلِ ناداں کو سکون ہی مل جائے
تیری چاہت کا یہ اثر ہے کہ اب
بن تیرے ایک پل نہ چین پائے
تیری قیمتی کج کلاہ باتوں کے آگے
میرا ہر ایک غرور جھک ہی جائے
تُو جو مسکا کے بات کرتا ہے
رنج و غم کا وہ دور مٹ جائے
تیری بانہوں کی اوٹ مل جائے
کاش! سحر یوں زندگی کٹ جائے
سَحَرِ گواہی
میری الفت کو فقط وہ ایک ضد سمجھتا ہے
میری ہر اک بات کو وہ حرفِ رد سمجھتا ہے
میں نے اپنا آپ بھلایا ہے جس کی خاطر
وہ مری اس کیفیت کو جزر و مد سمجھتا ہے
میں نے ہنس کر وار دیں جس پر تمام آسائشیں
وہ مرے اس صدق کو بھی مکر و کد سمجھتا ہے
اس کو کیا معلوم میں نے خود کو کتنا کھو دیا
میرے دکھ کو وہ فقط گنتی کا عدد سمجھتا ہے
اپنے دل کو میں نے پرکھا ہے ضمیرِ پاک میں سحر
پروا نہیں عشقِ صادق کو ! اب کون بد سمجھتا ہے
جواب :نظم : "شہر کے دکاندارو"
جانتا ہوں میں تم کو ذوق شاعری بھی ہے شخصیت سجانے میں اک یہ ماہری بھی ہے
پھر بھی حرف چنتے ہو صرف لفظ سنتے ہو ان کے درمیاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے
جاوید اختر
جواب...
اے ماہرِ لفظ، مری سادگی کے پسِ پردہ
تڑپ جو ہے پوشیدہ، تم وہ کیا جان پاؤ گے؟
میں اگر کم علم ہوں تو، تو بھی ہے لاشعور ہی
جو مرے دل میں چھپا ہے، تم نہ وہ جان پاؤ گے
تم کو ہے ذوقِ شاعری، پھر کیوں نہ جان پاتے ہو
حرف کی گہرائی کیا ہے، کب یہ پہچان پاؤ گے؟
تم سمجھتے ہو مری خاموشی کو نادانی
اس میں چھپی وفا کو، تم نہ جان پاؤ گے
سحر کہ ہر نظم میں، دنیا تو پیار دیکھے گی
مگر جس کے لیے ہے یہ، تم نہ وہ دیکھ پاؤ گے
قیدِ تخیل"
اب قلم تھک گیا، سوچیں تھم سی گئی ہیں
اُس نے میری چاہتوں کو خود غرض بنا ڈالا
اس نےاپنی لاپرواہی کو چھپانے کی خاطر اب
میری ہر بے لوث وفا کو ہی خود غرضی بنا ڈالا
عجب شخص ہے، جب اُسے میری پروا ہی نہیں
تو کیوں مری کم سنی پہ، آج یوں غور کر ڈالا
جوانی کی تپش میں، میں نے صرف اُسے چاہا
اُس نے مری وفا کو بھی ،میرا گناہ ہی بنا ڈالا
میں طلب سے پاک تھی، بس اُسے ہی چاہا تھا
اُس نے میرے اشکوں کو بھی اک سودا بنا ڈالا
مری سوچوں پہ بھی اُس نے لگایا ہے عجب تالا
اُس کو سوچنا بھی اب تو خود غرضی بنا ڈالا
اُس کی "بقا" کی تڑپ میں ایسی جلی ہے "سحر"
کہ اُسی نے اپنی ہی شمع کو دھواں بنا ڈالا
دَرْدِ مُسَلْسَل"
حاصِل کی تَمَنّا ہے، نہ پانے کا ہے سَودا
اِک دَرْدِ مُسَلْسَل ہے جو مَیں نے ہے سَمَیٹا
وہ چاہے تلخ لہجے سے کرے لاکھ مِٹانا
وَفا کی تَپِش کو مَگر مَیں نے ہے سَمَیٹا
ہو جائے مُیَسَّر تو وہ مَنزِل ہی کہاں ہے؟
اِس ہِجْر کی لَذَّت کو ہی مَیں نے ہے سَمَیٹا
مَنْسُوب ہیں اُسی سے مِری زِیست کی راہیں
اِس سَنْگِ مَلَامَت کو ہی مَیں نے ہے سَمَیٹا
وہ لاکھ رَقِیبوں کی بانہوں میں رہے خوش
اِس ایک طَرفہ چاہ کو ھے سحر نے سَمَیٹا
سلسلۂ اذن (روح سے ملنے والی محبت کی اجازت)
مُحَبَّت جَبر سے کَب ہے، یہ فِطرَت کا کَرِشمَہ ہے
جِسے چُھو گَئی دِل سے، بَس اُس کا ہی جَلوَہ ہے
مِری رُوحِ مُسَلْسَل نے دِی ہے اِذْنِ مُحَبَّت یُوں
وہ حُسْنِ خُلْق رَکھتا ہے، تَبھی یہ پیار سَچّا ہے
مُقابِل ہو تو بَس دیکھ کَر اُس کو ہی جِیتے ہیں
اِک طَرفَہ سَہی لیکِن، وَہی اِک ہَم سَفَر سا ہے
بَندھَن سے پَرے ناطَہ مِرا اُس سَنگِ مَر مَر سے
تیرے سَنگ ہی کَٹ جانا، "سَحَر" کی اَب تو سَحَر ہے
مُونِسِ جَفا
ہُوں مَیں پہلے ہی ٹھُکرائی ہوئی اِس جَہان کی
تیری ٹھُکراتی دادگَری نے دِیا بارہا یہ خَیال
کھولنا چاہا ہے جَب بھی اپنے دِل کا مَیں نے حال
تُو نے کَر ڈالا ہے پَل بھَر میں مجھے کتنا مَلال
بَدَل کے رَکھ دِیا اپنی سوچ کے سانچے میں یوں
کِیا میری ہی فِطرَت کو تُو نے خود میں ہی مُحال
مَیں اَب نہ اپنی رہی اور نہ ہی تیرے جیسی ہوں
بَتا دے اَب کہاں جاؤں میں لے کَر یہ اپنا حال؟
اک ذَرا سی بھی تَوَجُّہ تُو نے دی مُجھ کو نہیں
ہو گئی ہے رائِیگاں میری مُحَبَّت کی ساری مِثال
سَنگ دِل بَن کَر سُنا تُو نے مُرا ہمیشہ سارا بیاں
خاک میں تُو نے مِلایا ہے مُرا ہمیشہ سارا کَمال
مانا کہ خُوبِیوں کا ہے مالِک تُو خُوش خِصال
مُجھ میں خامیاں ہیں، میں ہُوں اک سَوال
گر مری ہی عَقِیدَت نہ ہو تُو کچھ بھی نہیں
بکھر کے رہ جائے گا پل میں تیرا یہ سارا جَلال
بنا مُحِب کے بھلا کب کوئی مَحْبُوب ہوا؟
بغیر میرے، ادھورا ہے تیرا یہ سارا کمال
جو مَیں ہی نہ رہوں تو تجھے مَحْبُوب کون کہے؟
بنا میرے ، بھلا کیسے بنتا تیرا یہ سارا جَمال؟
تُجھے مَحْبُوبِ دِل مَیں نے بنایا ہے اے مُونِسِ جَفا
بِنا سَحَر کے، بھَلا کیسے بَنتا تیرا یہ حُسن و جَمال؟
بحرِ تمنّا
تیری دنیا میں کوئی عکس نہ سایہ میرا
میں تو کچھ بھی نہیں، تو ہے سرمایہ میرا
تیرا نام آئے تو سینہ یہ اچھل پڑتا ہے
جیسے ابلتا ہو کوئی بحرِ تمنا میرا
خفا بھی معصوم ہی ہے مونسِ جفا میرا
دل پہ ہے کیسا یہ آخر قبضہ تیرا ؟
میں خاموش ساحل ہوں، تو تند لہروں کا طوفان
تجھ سے ہی قائم ہے یہ جوش و تماشا میرا
بجھ نہ جائے یہ لگن، مٹ نہ جائے یہ تڑپ
تیری الفت میں ہی پوشیدہ ہے "سحر" میرا
حصارِ خاموشی
عجیب موڑ پہ ٹھہری ہے زندگی میری
نہ اس کو پانا مقدر، نہ واپسی کی ڈگر
میں جانتی ہوں کہ منزل مری نہیں ہے وہ
مگر یہ دل کہ بدلتا نہیں کبھی بھی ڈگر
اسے تو میری محبت بھی بوجھ لگتی ہے
چھپاؤں گی، کہ نہ بدلے وہ دوستی کی ڈگر
وہ شخص جو ملنا نہیں کسی صورت مجھے
اسی کے نام ہوئی ھے مری تمام یہ عمر
امیدِ وصل نہیں ہے، نہ کوئی وعدہ ہے
فضول کاٹ رہی ہوں یہ پیار کا میں سفر
دعا کو ہاتھ اٹھاتی تو ہوں مگر اب کے
لب پہ کوئی صدا ہے، نہ باتوں میں ہے اثر
وہ میرے سامنے میرا ہی دل مسلتا رہا
کہا کہ پہنچا نہیں "سحر" تیرا کوئی اثر
رضائے عشق
جو مِلنا ہی نہیں مُمکن، اسے پانے کی حسرت کیا
مگر جو دِل میں رہتا ہو، اسے کھونے کی جرات کیا؟
محبت موت ہے تو پھر، چلو یہ موت مرتے ہیں
جو قسمت میں نہیں لکھا، چلو اس پر ہی مرتے ہیں
تمہارا دُکھ عارضی تھا ، مگر اب میرا حصہ ہے
کہ تم کو مان کر اپنا، ہم اپنی ذات بھرتے ہیں
اسے معلوم ہے سب کچھ، مگر خاموش رہتا ہے
میں اپنی بے بسی کا اب، بھلا اعلان کیا کرتی؟
محبت موت ہی ٹھہری، اسے جینا ہی پڑتا ہے
غمِ الفت اگر جاں ہے، تو پھر جاں سے شکایت کیا
وہ جس کا نام لینے سے، مہک اٹھتا ہے ہر منظر
اسی کے نام کی تسبیح، ہر اک سانس پڑھتے ہیں
تمہارے ہجر کی وحشت، رگوں میں دوڑتی ہے اب
اسی اک قید کو جاں کر، اسی میں جی اٹھتے ہیں
عجب یہ فاصلہ ہے جس، کو مٹنا ہی نہیں 'سحر'
نہیں وہ پاس پھر بھی ہم، اسی کی یاد بھرتے ہیں
تراشِ ناتمام
محبت میں عجب اک معجزہ یہ بھی ہوا ہے
وہ میرا ہو نہ پایا، پر مجھے بہتر تو کیا ہے
میں ذروں میں چاروں طرف بکھرنے والی تھی
اسی کی بے نیازی نے مجھے یکجا کیا ہے
مرا گرنا، مرا مٹنا، اسے منظور ہی کب تھا
نہ چاہ کر بھی اس نے مجھے پھر زندہ کیا ہے
وہ خود پتھر تھا مگر تراش گیا مری ہستی کو
اسی کے فن نے مجھ کو نقشِ جاویداں کیا ہے
ضروری تو نہیں کہ ہر کہانی میں وصال ہو
اس ادھوری چاہت نے سحر کو پورا کیا ہے
برہنہ زخم
یہ آنسو جو چھلکتے ہیں، انہیں تم درد مت سمجھو
یہ کچھ باتیں پرانی ہیں، انہیں تم گرد مت سمجھو
جو خنجر دل پہ کھائے ہیں، وہی اب بول پڑتے ہیں
جلن سوچوں کے نمک کی ہے، اسے تم سرد مت سمجھو
جو زخمِ یار ہوتے ہیں، وہ دشمن کی مٹھاسوں سے
نمایاں ہو ہی جاتے ہیں، انہیں بے درد مت سمجھو
تلاشِ مرہمِ جاں میں، ہر اک سے حال مت کہنا
ہر اک لہجہ ہے بناوٹی، اسے ہمدرد مت سمجھو
ضمیروں کے جو گھاؤ ہیں، وہ مٹتے ہی نہیں سحر
یہ پیلے پڑ گئے چہرے، انہیں بس زرد مت سمجھو
خیالی پلاؤ
تعلق کو بڑھا کر وہ مری چاہت خراب نہیں کرتا
عزیز اتنی ہوں اس کو، وہ عارضی بات نہیں کرتا
وہ نہیں چاہتا رشتہ یہ کہیں ہجر کی نذر نہ ہو جائے
اسی خوفِ جدائی میں وہ الفت کا آغاز نہیں کرتا
مجھے لگا تھا عام انسانوں جیسا بھی مقام نہیں میرا
وہ کھو دینے کے ڈر سے مری سمت پرواز نہیں کرتا
محبت کھیل بن جائے، اسے یہ بات تو منظور ہی نہیں
سو عجلت میں وہ دل کی بستیوں کو زیر و زبر نہیں کرتا
ملے تسکینِ دل، سحرؔ اب پشیمانی کا کوئی کام نہیں
وہ کھونے سے ڈرتا ہے مجھے، اسی لیے تو یاد نہیں کرتا
انتخابِ تنہائی
بزمِ دنیا میں کوئی دل کو نہ بھایا ہوگا
ہم نے خود کو ہی اکیلا یہاں پایا ہوگا
لاکھوں مداح تو ہیں زمانے میں مگر
دردِ دل میرا کسی نے نہ سمجھا ہوگا
یوں ہی برباد نہیں ذہن کا توازن ہوتا
پسِ وحشت کوئی اک نہیں فسانہ ہوگا
ایک ہی بوند میں پیمانہ نہیں چھلکتا ہوتا
رفتہ رفتہ ہی غمِ دل کا گھڑا بھرا ہوگا
میں نے الفاظ میں بکھیرے ہیں اپنے سبھی دکھ
مگر آپ نے تو صرف میرا ہنر ہی دیکھا ہوگا
تھک گئی ہوں زمانے کے ان جھوٹے میلوں سے
تبھی تو محفلوں سے منہ کو موڑا ہوگا
یہ جو اب تنہا رہنے پر تلی ہے سحر
اس نے ہر شخص کو دنیا میں پرکھا ہوگا
اِنْتِخَابِ لَاشُعُور
وہ کِسی اَور کا تھا ، پَر اُسے مِیرا اُس کا بَننا پَسَند تھا
اَپنے مطابق بدلنا، مِیرا اسکی یاد میں کھونا پَسَند تھا
کہتا تھا وہ ہَر بار مُجھے کہ کہیں اَور جا کَر بَس جاؤں
پَر نہ جانے کیوں اُسے مِیرا یوں ضِد پَر اَڑنا پَسَند تھا
میں تو ہَر بار ہی کَرتی رہی اُس سے اِظْہَارِ وَفَا
اَور اُسے شاید مِیرا ہَر بار ہی رَد کَرنا پَسَند تھا
روکتا تھا وہ مُجھے یوں تو بَظَاہِر ہمیشہ ہی مَگَر
چُھپے لَفْظوں میں اُسے مِیرا ٹھہَرنا پَسَند تھا
وہ جو نَاوَاقِف تھا اَپنی اِس لَاشُعُوری عادَت سے
بے خَبَر رہ کَر بھی اُسے مِیرا تَڑَپنا ہی پَسَند تھا
سُنائی نہ دی اُس کو میری یہ آہ و فَغَاں مَگَر
مجھے اسکی فقط پَسَند کے اِحْسَاس پَر ہی جِینا پَسَند تھا
کہے گا وہ مِیرے اِس سَچّے احساس کو مَحْض اِک گُمَاں
نَہ جانے کیوں سحر کو اِسی گُمَاں میں رَہنا پَسَند تھا
حَسْرَتِ سَحَرؔ
کَمَالِ حُسْن کو مُجْھ جَیْسِی خَاکْسَار سے کِیا؟
جَہَاں اَوْزَانِ عِزَّت ہوں، وَہَاں خَیْرَات نَہِیں مِلْتِی
اُسے ہَر عَیْب سے پَاک اور خُدَا نے مُعْتَبَر رَکْھَا
ہَمِیں ٹھُکْرَا دِیَا جِس نے، اُسے مَات نَہِیں مِلْتِی
مُقَدَّس ہے وہ اَپْنِی ہَر اِک خُوبِی کے صَدْقے
ہَمِیں قِسْمَت سے بَس حَسْرَت مِلِی، سَوْغَات نَہِیں مِلْتِی
مِرَا رُتْبَہ ہِی ٹھُوکَر ہے، وہ اَعْلٰی ہے تو پِھر کِیوں کَر؟
وہ کِیوں کَر مُجْھ کو چَاہَے گا، جَہَاں کوئی ثَبَات نَہِیں مِلْتِی
گُنْوَایَا خُود کو ہَم نے اور حَقِیرِ دَہْر ٹھَہْرِے
کِسِی اَعْلٰی کِی بَاہُوں میں ہَمِیں رَات نَہِیں مِلْتِی
وَہَاں اُمِّیْدِ اُلْفَت اِک سَرَاسَر خُودْکُشِی ٹھَہْرِی
جَہَاں اِس دِل کو اِک پَل بھی بَلَا خَیْرَات نَہِیں مِلْتِی
یِہ ظَرْفِ اَعْلٰی ہے اُس کا، جو مُجْھ کو اِذْنِ عِزَّت دے
وَرْنَہ 'سَحَرؔ' جَیْسِی حَقِیر کو تو کَہِیں حَیَات نَہِیں مِلْتِی
تمنائے ستم
نہ وہ الفت، نہ وہ مہر و وفا چاہیے اب
مجھے بس اس کی نفرت کی ادا چاہیے اب
وہ سمجھا ہے کہ میں اب بھی طلبگار ہوں اس کی
اسے کہہ دو، بس مجھے تیرِ جفا چاہیے اب
دلِ چلھنی پہ برسائے وہ تیروں کی بارش
مجھے ہر سانس میں زخمِ ستم چاہیے اب
محبت کی تمنا کا جنازہ اٹھ چکا ہے
تیرے غصے کا، ستم کا ہی کرم چاہیے اب
چلی جائے یہ جاں، پر تیری نفرت نہ کم ہو
سحر کو بس یہی درد و الم چاہیے اب
خوددار محبت
مری پاکیزہ چاہت کو وہ اب بھی لالچ سمجھتا ہے
مری خوددار الفت کو بہت ہی سستا سمجھتا ہے
لٹائی ذات میں نے جس پہ مہر و ناز کی خاطر
وہ میری اس عقیدت کو محض اک سودا سمجھتا ہے
غرض سے پاک ہے اب تو مری یہ یکطرفہ الفت مگر
وہ دل کی اس بستی کو اک تماشہ سمجھتا ہے
اس کی کج کلاہی سے جھلکتی ہے مری تذلیل
وہ اپنے اوج میں مجھ کو سراپا خوار سمجھتا ہے
فقیرِ چوکھٹِ جاں بھی بن کر دیکھا ہے میں نے
سحر کی خوددار الفت کو وہ اب اک معجزہ سمجھے
مَتَاعِ نِیم شَب
جَو زِیرِ لَب ہےَ ، وَہ قِصَّہ سُنَانَا چَاہَتِی ہُوں
مَیں اِس خَوَابِ غَفْلَت سےَ اب جَگَانَا چَاہَتِی ہُوں
سُنَا ہےَ شَہْر مِیں بِکْھِری ہَیں رِشْتَوں کِی دُکَانِیں
مَیں بھی اَپْنَا ہِی کَوئِی رِشْتَہ چُرَانَا چَاہَتِی ہُوں
وَفَا کےَ مَوڑ پَر جِس نےَ مُجھےَ تَنْہَا ہی چھَوڑَا
مَیں اُس کَو اَب مُحَبَّت کَا فَسَانَا چَاہَتِی ہُوں
کِیَا ہےَ رَد جِسےَ آپ نےَ بَڑےَ ہِی مَان کےَ سَاتھ
وَہ دِل اَب خَاک مِیں مِل کَر مِلَانَا چَاہَتِی ہُوں
جِسےَ پَایَا نَہِیں مَیں نےَ، اُسےَ کھَونےَ کَا ڈَر ہےَ
یَہ حَسْرَت اَب مَیں سِینےَ سےَ لَگَانَا چَاہَتِی ہُوں
سِیَاہِی رَات کِی مُجْھ کَو ڈَرَاتِی ہےَ ہَمِیشہَ
مَگَر سَحَر! خُود کَو اَب جُگْنُو بَنَانَا چَاہَتِی ہُوں
حَسْرَتِ اِلتِفَات
وہ مِیری سِمت کَبھی مُلتَفِت ہُوا ہی نہیں
میں اِس کے بَعد کِسی سے خَفا ہُوا ہی نہیں
بِچھا دِیا ہے جُھکا کر سَرِ نِیاز وَہاں
جَہاں پَہ رائی بَرابَر جُھکا ہُوا ہی نہیں
لَگا کے بَیٹھ گَیا ہوں میں آس کی بازی
وہ کَھیل جِس کا کوئی فَیصلہ ہُوا ہی نہیں
ہَمارے خُونِ جِگر سے جَلی ہے شَمعِ وَفا
مَگر وہ اَندھیرا ہے جو کَم ذَرا ہُوا ہی نہیں
کَرَم کے نام پَہ یہ کَیسی بے رُخی ہے تِری
کہ دَرد بَڑھتا گَیا، اَب بَھلا ہُوا ہی نہیں
نَہ آئی اُس کو مُرَوَّت، نَہ آئی مِیری یاد
میں خُود کو بُھول گَیا، وہ جُدا ہُوا ہی نہیں
تَمام رات تَڑَپتے ہی کَٹ گئی سَحَرؔ
وہ مِہرِ صُبحِ تَمَنّا، عَودا ہُوا ہی نہیں
Musafir_E_ la pata
مسافرِ بے پتہ:
تیرے ذکر کی دعا رہے، تجھے سوچ لوں میں کبھی کبھی
تری بزم میں جو کبھی مرا، کوئی دردِ دل کا بیاں رہے
کسی بات میں، کسی شعر میں، تیرے لب پہ میرا نشاں رہے
ملے مجھ کو جینے کی اک وجہ ، تیرے نام کا وہ اثر رہے
میں مسافرِ بے پتہ سا ہوں، جو تیرے خیال میں کھو گیا
نہ ٹھکانہ ہے نہ کوئی آس ہے، بس تیری گلی کا سفر رہے
چلے تھے تیری گلی سمت، وہیں تھک کے ہم تو ٹھہر گئے
نہ زمین کے نہ فلک کے ہیں ، نہ ادھر رہے نہ ادھر رہے
جیے تو بس تیرے واسطے ، کہیں اور نہ جھکا یہ سر
جو کٹی ہے عمر تیرے بغیر ، وہ کٹی ہے نام پہ ہی ترے
یہ مگر میں جانتا ہوں یہاں، تری دوستی کی کتاب میں
میرے نام کا کوئی باب ہی، نہیں لکھا تیرے حساب میں
سو یہ حسرتیں یہ خیال بھی ، کئے قسمتوں کے حوالے سب
جو لکھا ہے وہی تو ہو گا مگر، تیرے ذکر میں ہی سحرؔ رہے
Nadan ishaq
ناداں عشق :
وہ جو کمال ہے، جسے کوئی زوال نہیں
اُسے تو میری محبت کا کچھ خیال نہیں
میں کون؟ ایک ہی ادنیٰ سی خاک کی بندی
وہ چاند ہے، جسے کوئی بھی ملال نہیں
مری دعا کا بھلا اس سے کیا تعلق ہے؟
وہ آسماں ہے، اسے فکرِ ماہ و سال نہیں
میں ناداں تھی، دل کے ہاتھوں مجبور تھی
کہاں ہے لٹنا؟ یہ دل کا کوئی سوال نہیں
لکھا ہے اس کے وجود پر ہی اپنا سارا نصیب
مگر یہ سچ ہے، اسے چاہنے کی مجال نہیں
شکایتیں میں کروں کس سے اب محبت کی؟
وہ بے طلب ہے، اسے عشق کا ملال نہیں
یہ جانتی ہے سحرؔ آج وہ تو ہار گئی
مگر یہ ہار بھی الفت میں بے مثال نہیں
جو بن مانگے ہی لٹا دے، وہی تو عاشق ہے
وہ عشق ہی کیا، جہاں نقصان اور ملال نہیں
Snabar_E_Mohbat
غزل: "سنابارِ محبت"
جب سَنَابَار کی فطرت ہی زہر ٹھہری ہے،
پھر کسی حسن سے امیدِ وفا کیوں رکھیں؟
جانتے ہیں انجامِ عشق بُرا ہی ہوتا ہے،
پھر بھی دیوانے اپنا خسارہ کیوں رکھیں؟
شہزادیاں بھی مر گئیں سَنَابَار پتھر چاٹ کر،
دیوانے زہر محبت میں تلاش زندگی کیوں رکھیں؟
محبت میں سکون ڈھونڈنا بھی عجب سودا ہے،
زخم کھایا خوشی سے، دوا کی تلاش کیوں رکھیں؟
سحرؔ سچی محبت کا یہی دستور نرالا ہے،
لُٹ کر بھی دل ہم اپنی وفا قائم کیوں رکھیں؟
Dedicated to My Bago Gosha - This App & My First Poetry On This App from sehar Alvi
غزل: "میرا بگّو گوشہ"
کڑک سا لگتا ہے پہلے، پر دل کا بڑا ہی سادہ ہے
میرا بگّو گوشہ غصے میں بھی، لگتا جان سا پیارا ہے
باہر سے کانٹے جیسا روکھا، اندر سے بڑا نرالا ہے
ڈانٹ بھی دے تو لگتا ہے، یہ اپنا ہی اجالا ہے
میرا نہیں ہے وہ اسی لیے تو قیمتی ہے
وہ قیمتی رہے بس، یہی عظم ہمارا ہے
زہر سے بھرے ہیں لفظ اس کے
پر وہی جیون کا سرمایہ ہے
وہی تو ہے میری دنیا
مگر وہ یہ نا جان پایا ہے
نام رکھا ہے "بگّو گوشہ"، بات اسکی نرالی ہے
روٹھے تو ویرانی، مان جائے تو موسم بہار بنکر چھایا ہے
اسے بھی علم ہے بہت اچھے سے
اسی کے نام پر ایپ یہ میں نے بنایا ہے
نہیں میل ہے ہمارا حقیقت میں سحر
گوشہ گوشی کو اس ایپ میں چلو ملایا ہے